انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 198
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۹۸ سورة البقرة شدت کے نتیجہ میں اگر تم اپنے فدائیت کے حسن کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کر سکو گے تو تمہارے اعمال مقبول ہو جائیں گے جو صبر کی تعلیم کی روشنی میں تم بجالائے اور جب تمہارے اعمال مقبول ہو جائیں گے تب تم اس قسم کے مومن بن جاؤ گے۔وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا کہ جن کے متعلق بشارت دی گئی ہے آن لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ جن کا خدا تعالیٰ کے حضور ظاہر و باطن طور پر اَنَّ ایک کامل درجہ ہے۔خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۴۸۴۲۴۸۲) آیت ۶ ۱۵ تا ۱۵۸ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتَ مِنْ ، ربِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔* اللہ تعالی نے اس جگہ ہمیں اس طرف توجہ دلائی کہ آزمائش کے بغیر، امتحان کے بغیر تمہیں چھوڑا نہیں جائے گا۔جو دعاوی محبت اور پیار کے اور فدائیت اور ایثار کے تم کرو گے اس سلسلہ میں تمہاری آزمائش بھی کی جائے گی، تمہارا امتحان بھی لیا جائے گا۔کسی قدر خوف پیدا ہوگا بِشَی ءٍ مِنَ الْخَوْفِ خوف کے حالات مختلف قسموں کے ہیں۔دو ایکسٹریمز (Extremes) یعنی سب سے زیادہ خوف، سب سے کم خوف۔سب سے زیادہ خوف اس وقت ہوتا ہے جب انسان یہ دیکھے کہ دنیوی طاقتیں اسے مٹا رہی ہیں اور سب سے کم خوف نہ ہونے کے برابر اس وقت ہوتا ہے جب انسان یہ محسوس کرے کہ جو سب سے زیادہ طاقت ور ہے اللہ ہمارا، وہ ہماری مدد کے لئے ہمارے پاس کھڑا ہے اور دشمن ہمیں ایذا تو پہنچا سکتا ہے کچھ خوف کے حالات تو پیدا کر سکتا ہے لیکن اپنے منصوبہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بھوک سے بھی تمہاری آزمائش کی جائے گی۔جو صنعت و تجارت سے خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت اُس کی تم حاصل کرو گے اس میں کمی اموال تمہارے ہوں گے، ان تجارتوں میں گھانا، صنعتی جو تمہارے منصوبے ہیں ان میں نقصان ہوگا اور ہم تمہاری آزمائش کریں گے۔تمہاری