انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 194
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۹۴ سورة البقرة تمام صفات حسنہ کے ساتھ اپنی تمام قدرتوں کے ساتھ اور اپنے جلال کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور زندہ رکھنے والاحتی و قیوم خدا ہوں جو اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی تمام اقوام کے لئے اور قیامت تک ہر زمانہ کے لئے نجات دہندہ کی شکل میں بھیجے گئے ہیں جو اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ قرآن کریم انسان کے تمام دینی اور دنیوی مسائل کو حل کرتا ہے جو اس بات پر ایمان لاتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ہی مبعوث فرمایا ہے۔جو ایمان لاتے ہو کہ جس مقصد کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث کئے گئے ہیں۔اس مقصد میں آپ اور آپ کی جماعت ضرور کامیاب ہوگی تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں بے شک مشکل بڑی ہے اور کام اس نوعیت کا ہے کہ عقل انسانی بظاہر یہ فیصلہ نہیں دے سکتی کہ اس میں ضرور کامیابی حاصل ہو گی لیکن خدا تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ پورا ہوگا۔اس لئے ہم تمہیں ہدایت دیتے ہیں کہ جس وقت یہ دیوار تمہارے سامنے آجائے اور تم کو محسوس ہونے لگے کہ آگے بڑھنے کا راستہ مسدود ہو گیا ہے اور ان اقوام کے دلوں کو فتح کرنا بظاہر ناممکن ہے یا درکھو کہ اس وقت صبر اور صلوۃ کے ساتھ میری مدد اور نصرت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔صبر کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ انسان استقلال کے ساتھ بُرائیوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہے۔یعنی اُسے اپنے نفس پر اتنا قابو ہو کہ وہ کبھی بے قابو ہو کر گناہ کی طرف مائل نہ ہو دوسرے معنی یہ ہیں کہ انسان نیکی پر ثابت قدم رہے اور دنیا کی کوئی طاقت، دنیا کا کوئی وسوسہ اور دنیا کا کوئی دجل صدق کے مقام سے مومن کا قدم پرے نہ ہٹا سکے اور صبر کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ جب کوئی نازک وقت اور مشکل پیش آئے اور دل میں شکوہ پیدا ہو تو وہ اسے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرے۔إِنَّمَا أَشْكُوا بَقِى وَحُزْنِي إِلَى اللهِ (يوسف : ۸۷) یعنی اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تمہاری امداد اور نصرت کے سامان پیدا کرے گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ ہم نے تمہیں مادی سامان بہت کم دیئے ہیں لیکن جتنا بھی تمہیں ملا ہے مال کے لحاظ سے، طاقت کے لحاظ سے، وقت کے لحاظ سے ، عزت کے لحاظ سے کروڑوں نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں ) جو کچھ بھی ہماری نعماء سے تمہیں ملا ہے۔اگر تم اس کا صحیح استعمال کرو اور قربانی کے ان تقاضوں کو پورا کرو جوتم پر عائد ہوتے ہیں اور کبھی اپنی نگاہ میری ذات سے ہٹا کرکسی