انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 193
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۹۳ سورة البقرة ایک تقاضا ہے محبت کا اس خوف کا پیدا ہو جانا کہ ہمارا محبوب ہم سے کہیں ناراض نہ ہو جائے اس کو اسلام کی زبان میں خشیت اللہ کہتے ہیں۔خشیت وہ خوف نہیں جو ایک خونخوار درندے کو دیکھ کر انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے خشیت وہ جذبہ ہے جو اللہ ، اس عظیم ہستی کے جلال کو دیکھ کر اور اس کے حسن کا گرویدہ ہو کر اس کے احسان تلے پس کر اس احساس کے ساتھ کہ اتنے احسانات ہیں کہ ہم اپنی زندگیوں میں اس کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتے۔یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ عظیم اور صاحب جلال واقتدار ہستی ہم سے ناراض نہ ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں ہم اس کی محبت کو کھو بیٹھیں اور اپنی اس کوشش میں کہ ہم اس کی رضا کو حاصل کریں ناکام ہو جائیں۔یہ ہے خشیت جو اللہ تعالیٰ کی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ میری معرفت کے حصول کے بعد جب تم محبت کے میدانوں میں داخل ہو گے۔فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَونی اس وقت یہ یا درکھنا کہ صرف میری ہی ذات وہ صاحب جلال ذات ہے کہ جس کے متعلق جذ بہ خشیت انسان کے دل میں پیدا ہونا چاہیے کسی اور ہستی میں نہ وہ جلال ہے نہ وہ عظمت نہ اس کا وہ حسن نہ اس کا وہ احسان کہ انسان کے دل میں اس کے لئے خشیت پیدا ہو۔ایک جابر اور ظالم بادشاہ کے لئے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے خشیت نہیں پیدا ہوتی یعنی دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اس کے ظلم کا نشانہ ہم نہ بن جائیں لیکن اللہ تعالیٰ تو ظالم اور جابر نہیں وہ تو رحیم اور رحمان ہے۔ہم کچھ بھی نہیں کرتے تب بھی وہ ہمیں اپنی عطا سے نوازتا ہے وہ رحمان ہے۔اور جب ہم اس کے حضور کچھ پیش کرتے ہیں تو وہ کمال رحیمیت کی وجہ سے نہ ہمارے کسی حق کے نتیجہ میں ہمارے اعمال کو قبول کرتا اور بہتر جزا ہمیں دیتا ہے اور انسان کے دل میں یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ اس کے کسی گناہ کے نتیجہ میں اس کی کسی کمزوری کی وجہ سے وہ عظیم حسن و احسان کا مالک ہم سے ناراض نہ ہو جائے اور اس کی محبت اور اس کی رضا سے ہم محروم نہ ہو جائیں۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۶۲۳) آیت ۱۵۴ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصبرين (۱۵۴) یعنی اے میرے مومن بندو! جو اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ میں خدائے قادر و توانا ہوں اور اپنی