انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 14
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۱۴ سورة الفاتحة دوست خط لکھتے ہیں کہ تجارت کرتے ہیں ہر قسم کے جتن کر دیکھے ہیں فائدہ نہیں ہوتا جس چیز میں ہاتھ ڈالتے ہیں نقصان ہوتا ہے ہر قسم کی تدبیر کی ، احمدی تو تدبیر کا ایک لازمی حصہ چونکہ دعا کو بھی سمجھتا ہے اس لئے وہ دعا جو تدبیر کا حصہ بنتی اور مادی تدبیر کی کامیابی کے لئے کی جاتی ہے اور خدا کی صفت رحیمیت کو جوش میں لاتی ہے وہ بھی کی گئی اور ناکام ہو گئی۔پس انتہائی تدبیر کی کیونکہ مادی تد بیر بھی کی اور اس کے بہتر نتائج کے لئے دعا کی صورت میں روحانی تدبیر بھی کی لیکن نتیجہ سوائے ناکامی کے کچھ نہ نکلا ایسے دوست بہت پریشان ہوتے ہیں اور پریشانی کا باعث یہ بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کی صفت کیوں ہمارے حق میں جوش میں نہیں آتی پس بعض دوست پریشانیاں اٹھاتے ہیں ناکامیوں کا منہ دیکھتے ہیں اور میں بھی ان کے لئے پریشان ہوتا ہوں۔پس اگر تد بیر ناکام ہو جائے یا اگر تذ بیر سو جھے ہی نہ ہر دو صورتوں میں ہمیں خدائے رحمن کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے جس وقت مریض لاعلاج قرار دے دیا جاتا ہے اور مادی تدبیر کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے کی گئی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر مبرم ہے اس وقت اگر رحمان کی صفت رحمانیت کے آگے عاجزی اختیار کی جائے اور اپنے رحمان خدا سے یہ کہا جائے کہ اے ہمارے رب ! تو رحیم بھی ہے، تو رحمن بھی ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم تیری صفت رحیمیت کا دروازہ کھلوانے میں ناکام ہوئے ہیں اب ہم تیری رحمن ہونے کی صفت کے حضور جھکتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ نہ ہمارا کوئی عمل نہ کوئی تدبیر جس طرح تو نے سورج اور چاند کو نیز بے شمار ستاروں کو ہماری فلاح اور بہبود کے لئے پیدا کیا ہے اب بھی اپنی رحمانیت کی صفت کا ایک جلوہ دکھا اور یہ کام کر دے۔تو جب رشتے دار مایوس ہو جاتے ہیں اور طبیب مریض کو لاعلاج قرار دیتا ہے اور وہ دعائیں جو تد بیر کا ہی حصہ ہیں ، تدبیر بھی ہیں ، وہ بھی قبولیت حاصل نہیں کرتیں اس وقت اگر ہم رحمن خدا کا دروازہ کھٹکھٹائیں تو بسا اوقات وہ ہمارے لئے کھولا جاتا ہے۔ہمارے رب نے جس طرح بے شمار چیزیں ہمارے اعمال سے بھی پہلے ہمارے لئے پیدا کر دی تھیں اور ان کو ہماری خدمت میں لگا دیا تھا وہ خدائے رحمان اپنی تمام قدرتوں اور طاقتوں کے ساتھ آج بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح آج سے پہلے تھا۔غرض جب رحیمیت کا دروازہ نہ کھلے تو ہمیں رحمانیت کے دروازے پہ جاکے کھڑے ہو جانا چاہیے اور یہ عرض کرنا چاہیے کہ تدبیریں تو نے پیدا کیں، ان کے استعمال کا ہمیں حکم دیا ، تدبیروں کو کمال تک