انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 192
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۹۲ سورة البقرة خوف کے نتیجہ میں لاتم نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ میں تم پر اتمام نعمت کروں گا۔چنانچہ قرآن کریم کے الفاظ میں اتمام نعمت کی حسین شکل یہ ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة : ٤) اس آیہ کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اتمام نعمت یعنی کامل شریعت تمہیں مل چکی ہے اگر تم اس کامل ہدایت پر عمل کرو گے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے عاجزانہ راہوں کو اختیار کرو گے اپنی زندگی کو اسلامی تعلیم کے رنگ میں رنگین کر لو گے تو اس دُنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی تم پر اتمام نعمت ہو جائے گا تمہیں حسنات دُنیا بھی اپنے کمال میں ملیں گی اور حسنات اُخروی بھی کامل رنگ میں ملیں گی۔اب اگر ہمیں یہ حسنات نہیں ملتیں تو اس میں ہمارا اپنا قصور ہے ہم نے خدا تعالیٰ کی بجائے بنی اسرائیل کا خوف اپنے دل میں بٹھالیا یا خدا تعالیٰ کی بجائے روس کا خوف اپنے دل میں پیدا کر لیا یا ہم خدا تعالیٰ کی بجائے امریکہ سے ڈرنے لگے اور یہ نہ سو چاھوَ الرَّحْمٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا (الملك :٣٠) یہ خدائے رحمان ہی ہے جس نے ہماری پیدائش سے قبل ہمارے لئے ان گنت نعمتیں پیدا کیں۔دُنیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ہستی نہیں ہے جو عمل سے پہلے انعام دے رہی ہو۔جو لوگ خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے انہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کی پر چھائیاں اور سائے سے نظر آئیں تو آئیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات کے کامل جلوے اسی انسان پر نازل ہوتے ہیں جو اس کی صفات کا مظہر بن جاتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ تو شیطان کے دوست ہیں جن کے دل میں غیر اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے۔شیطان خود سرکش اور اپنے دوستوں کو خدا سے دور لے جانے والا ہے۔جو شخص خدا سے دور لے جانے والے کا دوست ہوگا اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔اگر کسی کے دل میں غیر اللہ کی خشیت پیدا ہوگی تو ہم اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوں گے کہ شیطان کے ساتھ اس نے دوستی لگالی ہے۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ جب کسی کے دل میں غیر اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے تو یہ علامت ہوتی ہے شیطان کی دوستی کی۔ہمیں ہر حال میں اس تعلیم پر عمل پیرا رہنا چاہیے جس کے متعلق قرآن کریم نے بار بار زور دیا ہے۔چنانچہ فرمایا وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ (ابراهیم : ۱۳) بھروسہ کرنے والوں کو تو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔پھر فرمایا وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (المجادلة:1) اور چاہیے کہ مومن صرف اللہ پر توکل کریں۔خطبات ناصر جلد چهارم صفحه ۳۹۶ تا ۴۰۳)