انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 191 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 191

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۹۱ سورة البقرة صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں جن کی بدولت انسان دولت اور اقتدار کا مالک بنتا ہے۔مگر شیطان اُسے یہ کہتا ہے کہ تجھے دولت ملی ہے اس کو سمیٹنے اور جمع کرنے کی فکر کرو۔خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو کیونکہ خدا کی یہ مخلوق اور یہ عالمین اور تیری طاقتیں تیرا ساتھ چھوڑ دیں گی تو پھر کیا کرو گے؟ آج دولت ملی ہے کل نہیں ملے گی۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے جس طرح میں نے آج دولت دی ہے کل بھی دوں گا۔مگر شرط یہ ہے کہ تم نے شیطانی خوف دل میں نہیں رکھنا بلکہ صرف مجھ سے ڈرنا ہے اور صرف میری خشیت کو اپنے دل پر وارد کرنا ہے۔خشیت کے معنی دراصل ایسے خوف کے ہوتے ہیں کہ جس ہستی سے خوف کھایا جائے اس کی عظمت اور جبروت کا دل پر اثر ہو۔چنانچہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی عظمت اور جلال کی دہشت، اس کی عظیم قدرتوں کا احساس اور اس کے حاکم گل ہونے کا یقین ہے جو انسان کو خشیت اللہ پر مجبور کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم اپنے دل میں شیطانی وساوس پیدا نہیں ہونے دو گے، میری عطا کردہ دولت اور اقتدار یا میں نے جو دوسری چیزیں (مثلاً ) صلاحیتوں کے رنگ میں یا عقل کے رنگ میں یا اخلاق کے رنگ میں عطا ہیں اُن کو میرے قرب کا ذریعہ بناؤ گے تو میں تم پر اور زیادہ انعام کروں گا۔۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ شیطان کے دوست ہیں شیطان انہیں خوف دلاتا رہتا ہے۔مثلاً وہ خوف دلاتا ہے کہ تمہاری دولت نہیں رہے گی۔وہ خوف دلاتا ہے کہ تمہارا اقتدار نہیں رہے گا۔چنانچہ شیطان جس قسم کا بھی خوف دلاتا ہے اس کا مقصد اور مطلوب یہ ہوتا ہے کہ انسان نیکیوں سے محروم ہو جائے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم شیطان کی آواز سنو گے تو نیک نہیں بنو گے۔تم ان عظیم نعمتوں کو حاصل نہیں کر سکو گے۔جن کو میں نے اس دُنیا میں تمہارے لئے پیدا کیا ہے۔لیکن اگر تم شیطان کے دوست نہیں بنو گے اس کے خوف دلانے سے اثر قبول نہیں کرو گے۔بلکہ اللہ سے خوف کھاؤ گے اس کی عظمت اور جلال کا احساس اور اس کی صفات حسنہ کی معرفت رکھو گے اور یہ یقین رکھو گے کہ یہ کائنات یہ عالمین ہمیشہ تمہارے خادم رہیں گے۔اور یہ کہ تمہارے اندر وہ قوتیں موجود ہیں جن کے ذریعہ تم ان سے خدمت لے سکتے ہو تو پھر میں (اللہ ) تم سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری اس خشیت ( کہ کہیں اللہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔کہیں ہم اس کی رحمتوں سے محروم نہ ہو جائیں ) اس