انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 188
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۸۸ سورة البقرة سارا منصوبہ بنی نوع انسان کی بھلائی اور رفعتوں کے لئے ہے اور یہ اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ ولاتم نعمتى عَلَيْكُم تا کہ میں اپنی کامل نعمتیں تم پر بارش کی طرح نازل کروں اور اس اتمام نعمت کے نتیجہ میں لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُون تتم ایسی فلاح اور کامیابی حاصل کرو کہ جس سے بہتر اور جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی ہو ہی نہیں سکتی۔جن آیات میں خانہ کعبہ کے مقاصد بیان ہوئے ہیں ان کے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی دعا کی گئی ہے جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان میں اس دعا کی قبولیت کا ذکر ہے۔فرمایا:۔كما اَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ ابْتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ تا انسان کو یہ یاد دہانی کرائی جائے کہ فَولُوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ کے اصل معنے کیا ہیں۔قرآن کریم کی ہر آیت کے ایک سے زائد بطون اور بہت سے معافی ہوتے ہیں لیکن مضامین اور معانی کا جو سلسلہ میں اس وقت بیان کر رہا ہوں اس میں قولوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ کے معنے کی وضاحت کے لئے آگے یہ نتیجہ آ گیا ہے کہ كَمَا اَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ ابْتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ فرمایا وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وہ خدا کا پیارا اور محبوب جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کا نتیجہ اور امیدوں کا مرکز اور جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش گوئیوں پیش خبریوں اور بشارتوں کے مطابق مبعوث ہونا تھا۔وہ آ گیا اور جن مقاصد کے لئے اسے مبعوث کیا جانا تھا اُن مقاصد کے پورا ہونے کا زمانہ آگیا۔اس لئے فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَة تم أن مقاصد کو نظر انداز نہ کر دینا اور نہ تم پر الزام بھی آئے گا۔تم شیطان کے حربوں سے نقصان بھی اٹھاؤ گے۔اتمام نعمت کے راستے میں روکیں بھی پیدا ہوں گی اور اس طرح تم آخری فلاح حاصل نہیں کر سکو گے لیکن اگر تم نے اپنی پوری توجہ خلوص نیت اور پختہ عزم کے ساتھ ان مقاصد کو یادر کھا اور ان کے حصول کے لئے کوشش کی جن کا تعلق خانہ کعبہ کی تعمیر کے ساتھ ہے تو پھر یا درکھو! دنیا تم پر الزام نہیں دھر سکے گی کیونکہ تم سے خدا تعالیٰ کا پیار اور اس کی محبت کا سلوک دنیا کے سارے الزاموں کو مٹا دے گا۔پس تم اس پیار کو حاصل کرو۔دنیا اگر إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُم کی رو سے ظلم کی راہ اختیار کرے اور