انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 181
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۸۱ سورة البقرة غیبت نہیں کرنی ، زبان سے کرتے ہیں ناں آپ کسی پر تہمت نہیں لگانی، کسی کو گالی نہیں دینی ، کسی کو زبان سے ایذا نہیں پہنچانی ، دکھ نہیں دینا وغیرہ وغیرہ۔اتنی تفصیل میں گئی ہے شریعتِ اسلامیہ اور کوئی فلسفے تو نہیں ہیں جن کو سمجھانے کے لئے کسی بہت بڑے فلاسفر کی ضرورت ہو اور آپ کو سمجھنے کے لئے مہینوں کی ضرورت ہو۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کی تعلیم چار حصوں میں تقسیم ، جن میں سے دو کے متعلق مختصراً میں نے کہا ہے اور تیسری چیز ہے حکمت اس کے بڑے پہلو ہیں۔قرآن کریم کے ہر حکم میں، میں ایک دو بنیادی حکمتیں ہیں وہ بیان کرنے لگا ہوں ہر حکم جو ہے اس کے اندر اعتدال کے پہلو کو مد نظر رکھا گیا ہے تاکہ انسان تھک نہ جائے اور دلبرداشتہ نہ ہو جائے، اعتدال کا پہلو مثلاً کھانے پینے کے متعلق اعتدال کا حکم، روزہ رکھنے کے متعلق اعتدال کا حکم، ایک تو یہ کہ ہر روزہ مہینے کے سارے دنوں کے چوبیس گھنٹے کا روزہ نہیں بلکہ دن کا روزہ رکھا ، تو دن اور رات میں ایک اعتدال پیدا کر لیا جو دن کی جسمانی کوفت تھی یا جسمانی تکلیف تھی یا جو جسمانی طور پر روز مرہ کی عادت میں فرق پڑا تھا عام طور پر لوگ کھانا کم نہیں کرتے ، میں نے بڑا مطالعہ کیا ہے کچھ زیادہ ہی کھا لیتے ہیں مثلاً جو لوگ رمضان سے باہر پر اٹھا نہیں کھاتے وہ رمضان میں کھا لیتے ہیں باقاعدہ بھی کے ساتھ، قطع نظر اس کے فوائد اس کے پھر بھی ہیں اس بحث میں نہیں میں اس وقت پڑتا۔۔۔۔۔۔جب طبعی قوتوں کو موقع محل اور ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے وہ اخلاق فاضلہ بن جاتے ہیں۔پھر پاکیزگی ہے، پاکیزگی کے متعلق دو باتیں اصولی بیان کیں ایک انسان کو یہ کہا فلا تركوا اَنْفُسَكُم (النجم : ۳۳) اپنے آپ کو پاک نہ کہا کرو گنہگار ہو جاؤ گے غرور پیدا ہو جائے گا شیطان کی گود میں چلے جاؤ گے ہمیشہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کبھی جوش میں آئے نہ کہو میں بڑا پاک، میں بڑا ولی میں بڑا یہ میں بڑا وہ ہر شخص خدا کے حضور ایک عاجز وجود ہے اور جس چیز کو اسلام پاکیزگی کہتا ہے وہ یہ لپ سٹک اور سرخی کلوں پر لگانے کا نام نہیں ہے ظاہری آنکھ نے جسے دیکھنا ہے اس کا دل سے تعلق ہے قرآن نے کہالا تُرَكُوا انفسکم دیکھ بھی اپنے آپ کو پاک نہ کہنا هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : ۳۳) اس بات کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے کہ کون متقی ہے اور کون نہیں ہے۔جب یہ کہا کہ خدا کو ہی علم ہے کہ کون پاک اور کون نہیں اور کون مطہر اور کون نہیں کون متقی اور کون