انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 179 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 179

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة البقرة سے نازل ہوتے اور دلوں میں تبدیلیاں پیدا کر دیتے ہیں وہ لوگ جن کی زبانیں اسلام کو برا بھلا کہتے تھکتی نہیں تھیں ان کی آنکھوں سے آنسوؤں سے خود میری آنکھوں نے اسلام کی تعریف سننے کے بعد آنسو ٹپکتے دیکھے ہیں۔یہاں پہلی بات پہلا مقصد یہ بتایا گیا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ البتہ یہ جو آیات ہیں یہ خانہ کعبہ کا مقصد بھی ہے ای بینت چوتھی غرض میں نے بتائی تھی ایسے بسنت اور میں نے بتایا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کعبہ سے ظاہر ہونے والا نور ایسے نشانات اور تائیدات سماوی کا منبع بنے گا جو ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گے آسمانی نشانوں کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھولا گیا ہے فرمایا بَلْ هُوَ ایتا یہ دوسری آیت ہے قرآن کریم کی بَلْ هُوَ ايْتَ بَيْنَتُ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أوتُوا الْعِلم کہ قرآن کریم کا حقیقی علم رکھنے والوں کے سینوں کے اندر ایک بینت ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ان کے سینوں میں پیدا ہوئیں اور ہر لحظہ وہاں سے نکلتی اور دنیا کو عظمت قرآنی اور عظمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہی ہیں۔آیت کے معنی ہیں يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ آیات کا مفرد ہے الا یہ اور اس کے معنی لغت میں لکھے ہیں هِيَ الْعَلَامَةُ الظَّاهِرَةُ ظاہری علامت، ہر وہ ظاہری چیز ، ظاہری علامت جس کے ذریعے کسی دوسری خفی چیز کا پتہ لگے، ایک معنے اس کے یہ ہیں اور دوسرے یہ جو آیات ہیں، آیات وہ عقلی امور ہیں جو خدا کی ذات یا صفات کی نشاندہی کرتی ہیں ان کی طرف راہنمائی کرنے والی ہیں ان میں دلائل عقلیہ بھی آتے ہیں وہ بھی آیت بنتی ہے دلائل عقلیہ جو قرآن کریم میں زبردست عقلی دلائل ہیں ان کو بھی قرآن کریم کی زبان میں آیت کہا گیا ہے۔قرآن کریم کی ہر آیت ، آیت کہلاتی ہے ناں۔ہم کہتے ہیں اس سورۃ کی اتنی آیات، اتنی آیات، جو دلائل عقلیہ ، جو خدا تعالیٰ کی معرفت عطا کرنے والی ہیں۔اسی طرح آیات سے وہ آسمانی نشانات اور معجزات مراد لئے جاتے ہیں جو اپنے پاک بندہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ ظاہر کرتا اور ان کے نتیجہ میں انسان کی ہدایت کے سامان پیدا کرتا ہے۔آسمانوں اور زمین کی پیدائش کو بھی ، یہ یادرکھیں بہت سارے لوگ اس چیز کو بھول جاتے ہیں، آسمانوں اور زمین کی پیدائش حرکت اور زمانہ کو بھی آیت کہا گیا قرآن کریم میں ، یعنی سورج کی پیدائش یہ آیت اللہ ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے سورج نہیں بنایا تو تم نے بنا یا کسی اور نے بنایا۔کون ہے دعوی کرنے والا کہ میں نے جا کے سورج کو بنادیا تھا۔