انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 178

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث 12A سورة البقرة دو ان آیات میں جو پہلی آیت ہے يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ب وَآخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کہ یہ ایک نسل یا ایک صدی یا صرف ایک محدود زمانہ کے اندر اس کی برکتیں اور اس کی رحمتیں اور اس کی حکمتیں اور اس کے پاک کرنے اور تزکیہ کرنے کی قوت جو ہے اور اس کا حسن جو ہے وہ ختم نہیں ہو جائے گا کیونکہ اس خدا کی طرف سے اُمّی کے اوپر نازل ہوا ہے، ایک اور جماعتیں اس میں شامل ہوتی رہیں گی۔وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اور آخرین میں بھی ایک جماعت ہے جو انہیں کے ساتھ ، پہلوں کے ساتھ صحابہ کے ساتھ جاملے گی اور ان کے سپرد جو کام ہوگا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ان کی کامیابیاں غلبہ اسلام کی جدو جہد اور جہاد میں دنیا پر یہ ثابت کریں گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا کلام غالب ہستی کی طرف سے نازل ہوا اور اس ہستی کی طرف نازل ہوا جو حکیم ہے حکمت والا ہے اور حکمت سکھانے والا ہے پھر جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ جب یہ آخرین پیدا ہو جائیں گے تو دنیا میں ایک طمانیت اٹھے گی ، یہ ذلیل لوگ یہ غریب لوگ یہ بے سہارا لوگ یہ بے بس لوگ یہ بے مایہ لوگ جن کی کوئی قدر نہیں ہے جن کا سیاست میں کوئی دخل نہیں اس میں کوئی دلچسپی بھی نہیں۔انہیں کو چنا تھا خدا نے۔اسی واسطے یہاں امتین کا لفظ پہلے پڑھایا گیا کہ جس طرح امتین میں سے ایک کو چنا اور اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنا دیا اسی طرح وہ عزیز اور حکیم خدا آخرین میں سے ایک کو چنے گا اور اسے مہدی بنا دے گا اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم روحانی فرزند بنادے گا اور اس حقیر جماعت دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت سے خدا جو قدرتوں والا خدا ہے کام لے گا تا کہ انسان کا دل شیطانی امور سے نہ بھر جائے بلکہ ہر نفس اپنے گریبان میں جھانکے اور اعلان کرے کہ میں خدا کا عاجز بندہ مجھے خود پتا نہیں کہ یہ انقلاب کیسے اور کیوں بپا ہورہا ہے لیکن خدا تعالی کا منشا یہ ہے کہ بپا ہو اور اسلام غالب آئے خدا تعالیٰ نے بشارت دی تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وہ زمانہ آ گیا ، وہ حالات پیدا ہو گئے ، انقلاب پہ انقلاب، انقلاب پر انقلاب دیکھنے والی آنکھ دیکھتی ہے کم از کم پندرہ سولہ سال سے کچھ تھوڑا بہت دھند لکا سا تھا پہلے بھی، میرے دماغ میں۔ہر تبدیلی انسانی زندگی میں اس لئے آرہی ہے کہ آخر کار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت جو ہے وہ انسان پر ظاہر ہو اور وہ تبدیلیاں ہم کر رہے ہیں تم کر رہے ہو کون کر رہا ہے ہمارے مرد کر رہے ہیں عورتیں کر رہی ہیں خدا کر رہا ہے خدا کے فرشتے جو انسان کو نظر نہیں آتے وہ آسمانوں