انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 177 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 177

122 سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث بادشاہت اور اس کی پاکیزگی اور اس کے غلبہ اور اس کے حقیر ہونے کا اظہار کر رہی ہے۔وہ جو ہر زمانے میں نئے سے نئے علوم قرآن کریم سے نکلتے ہیں اس میں بھی خدا تعالیٰ نے جو کہا وہ میں بتا دیتا ہوں آپ کو اِنَّه لَقُرْآن كَرِيمُ فِي كِتَب مَكْنُونٍ لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ العلمين (الواقعة : ۷۹ تا) نئے علوم جو ہیں وہ یہ بتاتے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم رب العالمین کی طرف سے آئی ہے تا کہ ہر زمانے کے مسائل کو حل کر دے اور رب العالمین ہے صرف پہلے زمانوں کا رب نہیں تھا بلکہ قیامت تک کے لئے ہر زمانے کا وہ ربّ ، ہر زمانے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اس نے قرآن عظیم کو نازل کیا ہے۔اس واسطے يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ جو بادشاہ بھی ہے اور پاکیزگی مجسم اور پاکیزگی کا سر چشمہ اور منبع اور سب خوبیوں کا جامع اور غالب اور حکمت والا اور قرآن کریم کو ہر زمانہ کے لئے نئی سے نئی حکمتوں سے معمور کر دینے والا ہے، هُوَ الَّذِي بَعَثَ في الأمتينَ رَسُولاً مِنْهُم اللہ تعالیٰ کے متعلق پہلی آیت میں ذکر کا یہ اعلان کیا وہ اللہ جس کی تسبیح کر رہے ہیں مَا فِي السّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وہ خدا جو بادشاہ بھی ہے، پاک بھی، سب خوبیوں کا جامع بھی ہے، غالب اور حکمت والا بھی اس خدا نے بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ اُمیوں میں سے ہی ! دنیوی لحاظ سے ان پڑھ لوگوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کے بھیج دیا اُٹی میں سے رسول اور رسول وہ جو رسولوں کا سرتاج جو خاتم الانبیاء جس کے سامنے ہر ایک نے ہر آن گزشتہ پہلے نبی نے اس کی عظمت کا اقرار کیا اور اس کے مقابلے میں اپنے لاشئے ہونے کا اقرار کیا۔اس اُمّی کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّی ہونا اور آپ پہ جو کلام نازل ہوا اس کا ایک کامل اور مکمل ہونا اور اتمام نعمت کرنے والا ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہ کلام جو ہے اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جو اس کی تسبیح کر رہی ہے، ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو بادشاہ بھی ہے پاک بھی ہے پاکیزگی کا سرچشمہ بھی ہے۔غلبہ کا مالک بھی ہے اور ہر ایک کو اسی کا غلبہ عطا ہوتا ہے وہ حکیم بھی ہے حکمت والا بھی ہے اس کی تعلیم حکمتوں سے بھری ہوئی اس کے نیک بندے اس معنوں میں حقیقی تھے نئے ضرورتوں میں نئی حکمتیں سیکھتے اور دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی عظمتوں کو بیان کرتے اور اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور اس کی عظمت کے نعرے لگانے والے ہیں۔