انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 174
۱۷۴ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کتاب سکھائے اور حکمت سکھائے اور اس میں علاوہ اور بہت سارے مضمون کے جن سے قرآن بھرا پڑا ہے ایک حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو ترتیب اختیار کی اس وقت کی ہدایت، آسمانی ہدایت اسی ترتیب کو چاہتی تھی اس وقت کی آسمانی ہدایت کیونکہ تزکیہ نفس پر ساری کوشش ختم ہو گئی ابدی ترقیات کا وعدہ نہیں تھا ان کو الکتاب کامل کتاب اُو تُوا نَصِيبًا مِّنَ الكِتب ایک حصہ دیا گیا تھا۔اس واسطے ان کی روحانی ترقیات اور دوسری خیر جوان ہدائتوں کے ذریعے سے ان کو ملتی تھی وہ ایک جگہ پر ختم ہو جاتی تھی ابدی طور پر نہ ختم ہونے والی ترقیات ہمیشہ بڑھتے رہنے والا ہر آن بڑھتے رہنے والا اللہ تعالیٰ کا پیار یہ وعدہ ان ہدایتوں ان شریعتوں میں نہیں دیا گیا تھا۔اس واسطے ان کے نزدیک کمال جو ہے وہ تزکیہ نفس ہے اور اسی ترتیب سے انہوں نے ذکر کر دیا لیکن جو ہدایت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آئی وہ نہ ختم ہونے والی ترقیات، نہ ختم ہونے والے انعامات ، ہمیشہ مسلسل بڑھتے چلے جانے والے اللہ تعالیٰ کے انعام کا وعدہ اس کے اندر ہے اور لیکن جو نشان ہیں ، سکتے ، وہ صرف چار ہیں آیات سے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میں ترتیب لیتا ہوں آیات ہیں اور کتاب ہے اور حکمت ہیں اور تزکیہ نفس ہے۔یہ چارہی ہے ناں۔وہاں آکے ان کی شریعت ترقیات کو ختم کر دیتی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ختم ہونے والی ترقیات ہمیشہ آگے بڑھتے رہنے والی۔تو یہ چار جو ہیں پوائنٹ ( نکتے ) اس میں تو محدود بن جاتے ہیں یعنی جب چوتھے پہ پہنچیں گے تو پانچواں نہیں آئے گا لیکن اگر چکر چلے تو پھر نہ ختم ہونے والا بن گیا اور چکر اس طرح چلا یہ میں آپ کو بتاتا ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ ہے اس کو مختصر اشروع میں بیان کیا تھا ھدی للمتقین جو تقی ہیں ان کے لئے بھی ہدایت ہے متقی بناتی بھی ہے متقیوں کو مزید ہدایت دیتی ہے۔پھر پہلے سے بڑا ایک بڑھ کر متقی بن جاتا ہے انسان۔پھر جب بڑھ کر متقی بن جاتا ہے بڑھ کر انعام حاصل کرتا ہے۔جب بڑھ کر انعام حاصل کرتا ہے جو اس کی صلاحیت ہے وہ اس قابل ہو جاتی ہے کہ اسے پہلے کی نسبت زیادہ ہدایت نصیب ہو، پھر اس کو جب زیادہ ہدایت نصیب ہوتی ہے زیادہ تزکیہ نفس نصیب ہوتا ہے زیادہ تزکیہ نفس ہوتا ہے زیادہ پیار ملتا ہے، جب زیادہ تزکیہ نفس ہوتا تو پھر ، وہ حقدار ہو جاتا ہے ہدایت اس کو اور ملے تو اس تسلسل کی وجہ سے جو ایک دائرہ ہے چھوٹا ہو یا بڑا جب اس کے گرد آپ چکر لگائیں وہ نہ ختم ہونے والی حرکت ہے ہماری عقل کہتی ہے۔بے شک