انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 173 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 173

۱۷۳ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالثة پر کہ ہم مسلمان ہو گئے اور مسلمان ہونے کے بعد جن قربانیوں کا اور جس شر کا اور جس تکلیف کو برداشت کرنے کا اور جس قسم کا جگراتا کرنے کا اور دن کے اوقات میں روزے رکھنے کا اور بھوکے رہنے کے متعلق کئے گئے تھے یہ ہم نے کسی پر احسان کیا لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ اور وہاں کہا لا تمنوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ : بَلِ اللهُ يَمُنُ عَلَيْكُمْ (الحجرات : ١٨) - خدا کا احسان ہے تم پر اگر تم اس دعوی میں سچے ہو کہ تم واقعہ میں مومن اور خدا کے پیار کو حاصل کرنے والے ہو تو خدا کا احسان ہے اپنے زور سے تم ایسا نہیں کہہ سکتے تھے کہ اگر یہ ہدایت نہ نازل ہوتی اور اگر اتنی عظیم تعلیم نہ آتی اگر اتنی بشارتیں ساتھ نہ لاتی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ وعدے نہ دیئے جاتے کہ تیری اُمت کے وہ لوگ جو تیری اتباع کریں گے وہ میری محبت کو میرے پیار کو، حاصل کر لیں گے۔تو پھر کہاں سے تم پاتے یہ سب چیزیں فرما یا لَقَد مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ خدا تعالیٰ نے ان مومنوں پر احسان کیا اِذْ بَعَثَ فِيهِمُ کہ جب ان میں ایک رسول بھیجا ہے جو انہی میں سے ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ وہی چار مقاصد آگئے جو خدا تعالیٰ کی آیات ان کے اوپر پڑھتا ہے وہ کھول کے ان کے سامنے بیان کرتا ہے اور سمجھاتا ان لوگوں کی طبیعتوں پر اثر پیدا کرتا ہے خیر کل جو ہے اس کو وہ قبول کرو اور اس سے استفادہ کرے اور خالی یہ نہیں کہتا، کرو، بلکہ بتاتا ہے اگر ایسا کرو گے تمہیں فائدہ ب وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ اس میں ایک اور چیز بڑی زائد آگئی کہ وہ باتیں بتا تا ہے جو تمہیں پہلے پتا نہیں تھیں۔اگر چہ تم یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے پہلے، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ پر شریعت قرآنیہ نازل ہوئی ایک عظیم کتاب اور بحر بے کنار جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اتنے علوم اس میں بھرے ہوئے ہیں آگے ہی ، کہ ہر ایک نے اپنی ہمت کے مطابق غوطے لگائے ہر ایک نے اپنی صلاحیت کے مطابق، اس سمندر کی تہہ سے بڑے قیمتی موتی اور جواہرات نکالے خدا کا احسان ہے اگر یہ نہ ہوتا تو تم خدا کے پیار کو حاصل نہ کر سکتے ، اس کی ترتیب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں ترتیب یہ رکھی تھی تو ایسا رسول آئے جو ان کو تیری آیات ج ورسووو پڑھ کر سنائے پہلے آیات و يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب پھر کتاب کا ذکر و الحكمة پھر حکمت کا ذکر اور اس کے بعد چوتھی بات حضرت ابراہیم کی دعا میں تزکیہ نفس کا ذکر لیکن جو قبولیت دعائے ابراہیمی ہے اس میں اس ترتیب کو بدل دیا گیا اور اس میں یہ کیا گیا کہ آیات پڑھ کے سنائے اور ان کا تزکیہ کرے۔پھر