انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 170
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة البقرة راہ نمائی کے نتیجہ میں ان کا تزکیہ ہوتو وہ تزکیہ کامل نہیں وہ ان کی فطرت کے مطابق ان کی استعداد کے مطابق، ان کی قوت کے مطابق تو ہے لیکن وہ کامل تزکیہ نہیں ہے کیونکہ جو تعلیم انہیں دی گئی ہے وہ کامل نہیں کیونکہ ان کی استعدادا بھی کامل نہیں۔پھر جب وہ قوم پیدا ہو گئی جو کامل شریعت کی حامل ہونے کی استعداد رکھتی تھی تو ان میں سے جن لوگوں نے انتہائی قربانیاں دے کر اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے تمام احکام پر عمل کر کے اور تمام نواہی سے بچتے ہوئے اس کے حضور گریہ وزاری میں اپنی زندگی گزاری ان کو جو تزکیہ نفس حاصل ہوگا ( محض خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ کہ ان کے اعمال کے نتیجہ میں ) وہ ایک ایسا کامل تزکیہ ہو گا۔وہ ایک ایسی مکمل طہارت اور پاکیزگی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کی ایسی خوشنودی اور رضا ہوگی کہ اس قسم کی رضا پہلی قوموں نے حاصل نہیں کی ہوگی۔۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۶۳۸ تا ۶۴۴) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا کی اور جسے میں نے اپنے خطبوں میں تیئیسواں مقصد بیان کیا تھا وہ دعاية تى رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ابْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ اے ہمارے رب ہماری یہ بھی التجا ہے کہ تو انہی میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو ہی غالب اور حکمتوں والا ہے۔یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے قبول ہوئی اور جو رسول اس دعا کے ذریعہ سے مانگا گیا تھا عاجزانہ جھک کر خدا کے حضور، وہ آگیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ، قبولیت دعائے ابراہیمی کے نتیجہ میں، اللہ تعالیٰ کی یہ ساری تدبیر تھی انسان کے ہاتھ کا کوئی منصوبہ نہیں ہے خدا کا ہی منصوبہ تھا ، وہ ہمیں میں یہ جو ابھی ایک آیت پڑھوں گا اس سے پتا لگے گا لیکن اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ التكَ وَيُعَلِمُهُمُ الكتب والحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یہ جو چار مقاصد لے کے دنیا کی طرف آنے والے رسول کے لئے دعا کی گئی تھی یہ قرآن عظیم میں اس یہ البقرۃ کی آیت ۱۳۰ ہے اس کے علاوہ چار اور جگہ بالکل انہیں چار مقاصد کا ذکر ہے کچھ زوائد کے ساتھ۔سورۃ بقرہ کی ہی ایک اور آیت ہے اور وہ ۱۵۲ ہے اور اس سے ہمیں پتا لگتا ہے اس میں یہ بتایا گیا دو