انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 167 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 167

172 سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کہ تا دنیا یہ جانے اور پہچانے کہ روحانی رفعتوں کا حصول دعا کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے۔جب دعا میں انسان کا تضرع اور ابتہال انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور موت کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تب فضل الہی آسمان سے نازل ہوتا ہے اور معرفت کی راہیں بندہ پر کھولی جاتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہاں بیت اللہ کے قیام کی غرض بتائی کہ یہاں ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو دعا اپنی تمام شرائط کے ساتھ کرے گی اور دعا میں ان پر ایک موت کی سی کیفیت وارد ہو گی اور ان کا وجود کلیۂ فنا ہو جائے گا اور پانی بن کر آستانہ رب پر بہہ نکلے گا اور وہ جانتے ہوں گے کہ ہم اپنے اعمال کے نتیجہ میں ( محض اعمال کے نتیجہ میں ) کچھ حاصل نہیں کر سکتے جب تک ہم دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب نہ کریں اس لئے انتہائی قربانیاں دینے کے بعد بھی وہ اپنی قربانیوں کو کچھ چیز نہ سمجھیں گے اور ہر وقت اپنے رب سے ترساں اور لرزاں رہیں گے اور انتہائی قربانیوں کے باوجود ان کی دعا یہ ہوگی کہ جو کچھ ہم تیرے حضور پیش کر رہے ہیں وہ ایک حقیر سا تحفہ ہے۔تیری شان تو بہت بلند ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ تیرے حضور ہمارا یہ تحفہ قبول ہونے کے لائق نہیں لیکن تو بڑا رحم کرنے والا رب ہے ہمارے اس حقیر تحفہ کو قبول فرما اور ہماری غفلتوں اور ہماری حقیر مساعی کو چشم مغفرت سے دیکھ اور رحمت کے سامان پیدا کرتا کہ ہماری مساعی اور کوششیں تیرے حضور قبول ہو جائیں۔غرض اس قسم کی قوم پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی بنیا د رکھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خانہ کعبہ کی ازسرنو تعمیر سے اٹھارہواں مقصد یہ ہے کہ دنیا یہ جانے کہ جولوگ خدا تعالیٰ کے حضور اس رنگ میں دعائیں کرتے ہیں وہی ہیں جو اپنے رب کی صفت سمیع کا نظارہ دیکھتے ہیں اور پھر دنیا دیکھتی ہے کہ ہمارا رب جو ہے وہ سننے والا ہے۔وہ ہماری دعاؤں کو سنتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری دعاؤں کو سنا۔پس خانہ کعبہ کے قیام کے نتیجہ میں خدائے سمیع کی معرفت دنیا حاصل کرے گی۔انیسواں مقصد یہ ہے کہ دنیا اس کے ذریعہ سے خدائے علیم کی معرفت حاصل کرے گی یہ نہیں ہوگا کہ بندہ نے اپنے علم ناقص کے نتیجہ میں جو دعا کی اسے اللہ تعالیٰ نے اسی رنگ میں قبول کر لیا بلکہ بندہ دعا کرے گا اور دعا کو انتہاء تک پہنچائے گا تو اس کا رب اس کی دعا کو سنے گا اور قبول کرے گا مگر قبول کرے گا اپنے علم غیب کے تقاضا کو پورا کرتے ہوئے یعنی جس رنگ میں وہ دعائیں قبول ہونی چاہئیں :