انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 160
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث حق ہے۔جو ۱۶ 17۔سورة البقرة جو شخص تیری پیروی کرے، تیری اطاعت کرے اور جس حق کی تو نے اسے دعوت دی ہے اسے وہ قبول کرے تو یہ حق جو ہے وہ اسے بشارت دیتا ہے کہ دنیا میں اس کی مدد کی جائے گی اور آخرت میں اسے ثواب دیا جائے گا اور اسے دائمی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔اس کے برعکس جو تیری بات نہ مانے ، تیری مخالفت کرے اور جس حق کی طرف تو نے اسے دعوت دی ہے اسے وہ رڈ کر دے تو اسے یہ حق جو ہے وہ تنبیہ کرتا ہے کہ اسے دنیا میں ذلت پہنچے گی اور وہ خوار ہو گا اور آخرت میں اسے ذلت آمیز عذاب دیا جائے گا۔وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحَب الْجَحِيمِ کہتے ہیں پس معنی یہ ہوئے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔پس جو پیغام تجھے دیا گیا تو نے وہ پہنچا دیا اور تیرا کام پہنچادینا اور تنبیہ کر دینا ہے اور تجھ سے ان لوگوں کے متعلق سوال نہ کیا جائے گا جنہوں نے اس حق کا انکار کیا جو تو ان کے پاس لے کر آیا اور وہ دوزخیوں میں شامل ہو گئے۔تیسرا حوالہ میں نے لیا ہے امام قرطبی کی تفسیر سے۔وہ اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ الْمَعْلى إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بَشِيرًا وَنَذِيرًا غَيْرَ مَسْئُوْلٍ کہ ہم نے تجھے بشیر اور نذیر کر کے بھیجا ہے اور تجھ سے ان لوگوں کے بارہ میں پوچھ کچھ نہ ہوگی ، باز پرس نہ کی جائے گی۔علامہ محمود الوسی کی ایک مشہور تفسیر ہے روح المعانی اس میں اس آیت کی تفسیر یوں آئی ہے۔انَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّقِ اى مُتَلَبِّسًا مُؤَيَّدًا بِه۔۔۔۔۔وَ الْمُرَادُ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ لِأَنْ تُبَيَّرَ مَنْ أَطَاعَ وَتُنْذِرَ مَنْ عَلَى لَا لِتُجْبِرَ عَلَى الْإِيْمَانِ فَمَا عَلَيْكَ إِنْ أَصَرُّوا وَكَابَرُوا۔اور وہ وَلَا تُسْلُ کے متعلق کہتے ہیں آئی آر سَلْنَك غَيرَ مَسْئُولٍ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيْمِ مَا لَهُمْ يُؤْمِنُوا بَعْدَ أَنْ بَلَّغْتَ مَا أُرْسِلْت بِهِ وَالْزَمْتَ الْحُجَّةَ عَلَيْهِمْ “ (روح المعانی)۔وہ کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے تجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور اس کے ذریعہ تیری تائید کی گئی ہے اور کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اے رسول ہم نے تجھے اس لئے بھیجا ہے تاتو ان کو جو اطاعت اختیار کریں خوشخبری دے اور جو نا فرمانی کریں تنبیہ کرے۔مجھے اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ تو کسی کو ایمان لانے پر مجبور کرے۔یہاں میں یہ زائد کروں گا کہ اصحبُ الْجَحِيمِ کے جو قرآن کریم نے تین گروہ بیان کئے تھے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تجھے اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ تو کسی کو ایمان لانے پر مجبور کرے یا کسی کو ایمان کے