انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 158 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 158

۱۵۸ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث وَمُنْذِرًا لِمَنْ كَفَرَبِكَ وَ ضَلَّ عَنْ دِينِكَ أَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحُبِ الْجَحِيمِ۔۔۔۔۔فَفِي التَّأْوِيلِ وُجُوهٌ کہتے ہیں بہت سارے معنے لا تُسْلُ کے ہو سکتے ہیں۔اَحَدُهَا : أَنَّ مَصِيرَهُمْ إِلَى الْجَحِيمِ فَمَعْصِيَتُهُمْ لَا تَضُرُّكَ وَ لَسْتَ يَمَسْئُوْلٍ عَنْ ذُلِكَ وَهُوَ كَقَوْلِهِ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ مَا حُمِلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُلْتُمْ - (الثاني) إِنَّكَ هَادٍ وَ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْ ءٍ فَلَا تَأْسَفُ وَلَا تَغْتَمَّ لِكُفْرِهِمْ 66 وَمَصِيرِهِمْ إِلَى الْعَذَابِ وَنَظِيرُهُ قَوْلُهُ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ - (الثالث ) لا تَنْظُرُ إِلَى الْمُطِيعِ وَالْعَاصِي فِي الْوَقْتِ فَإِنَّ الْحَالَ قَدْ يَتَغَيَّرُ فَهُوَ غَيْبٌ فَلَا تُسْئَلُ عَنْهُ وَ فِي الْآيَةِ دَلَالَةٌ عَلى أَنَّ أَحَدًا لَا يُسْتَلُ عَنْ ذَنْبٍ غَيْرِهِ وَ لَا يُؤْخَذُ تِمَا اجْتَرَمَهُ سِوَاهُ سَوَاءٌ كَانَ قَرِيبًا اَمَ بَعِيدًا " امام رازی لکھتے ہیں اس آیت کی تفسیر میں کہ تمہیں علم ہونا چاہیے کہ جب کفار نے مخالفت اور بے فائدہ ضد پر اصرار کیا اور ہٹ دھرمی کے طور پر اقتراحی معجزات کا متواتر مطالبہ کیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو کہا کہ اس نے یعنی اللہ تعالی نے دلائل ظاہر کر کے ان لوگوں کی دینی بہتری کے لئے جو کچھ کیا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا یعنی خدا تعالیٰ نے اس سے زیادہ نہیں کیا دلائل دے دیئے۔آیات آسمانی نازل کر دیں۔امام رازی کہتے ہیں اس آیت میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتا ہے کہ جو میں کر چکا ہوں اس سے زیادہ میں ان لوگوں کی دینی صلاح کے لئے ، دینی مصالح کے لئے نہیں کر سکتا۔میں نے دلائل قائم کر دیئے ، حج قاطعہ ظاہر کر دیں، آیات آسمانی آگئے صداقت کے اظہار کے لئے اور جیسے خدا تعالیٰ نے یہ بات بیان کی ہے خدا تعالیٰ نے یہ بھی بیان کر دیا کہ جو کچھ رسول نے انہیں تبلیغ کرنے اور تنبیہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوسکتا تھا اور ایسا اس لئے فرمایا کہ حضور علیہ السلام کا غم ان کے کفر پر مصر ہو جانے کی وجہ سے زیادہ نہ ہو جائے۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے تجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ تو ان لوگوں کو جو تیری پیروی کریں اور تیرے دین کے ذریعہ ہدایت پائیں بشارت دے اور جو تیرا انکار کریں اور تیرے دین سے گمراہ ہو جائیں انہیں ڈرائے اور خدا تعالیٰ کا جو فرمان ہے کہ وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحِبِ الْجَحِيمِ “ مختلف پہلوؤں سے اس کی تفسیر کی جاسکتی ہے اوّل یہ کہ اصحبِ الْجَحِيمِ