انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 157
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۵۷ سورة البقرة نے اگر کسی کو بشارت دی ہے تو وحی کے نتیجہ میں دی ہے اپنی طرف سے تو نہیں دی کوئی بشارت، اور اگر کسی کو کوئی تنبیہ کی ہے اور ڈرایا ہے کہ اگر تم یہ کرو گے تو اللہ تعالی ناراض ہو جائے گا تو اپنی طرف سے تو نہیں ڈرایا۔وہ تو اسی واسطے ڈرایا کہ خدا نے کہا تھا کہ میں ناراض ہو جاؤں گا اگر تم ایسے کام کرو گے۔تو محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا بشیر اور نذیر ہونا ہی بتاتا ہے کہ جو تعلیم آپ لے کر آئے ، جو قرآن کریم آپ پر نازل ہوا وہ قرآن کریم خود بتا رہا ہے کہ کن لوگوں کو خدا تعالی بشارتیں دے رہا اور کن لوگوں پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہونے والا ہے اور قرآن کریم ان کو ڈرا رہا ہے کہ دیکھو ایسے کام نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا۔تو اس آیت سے بھی ہمیں پتا لگتا ہے کہ اسلام نے کامل مذہبی آزادی دی ہے اور ایک مفسر نے جیسا کہ میں ابھی بتاؤں گا یہ کہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے دلوں پر تصرف کرنے کی طاقت ہی نہیں دی گئی تھی۔جب طاقت ہی نہیں دی گئی تو الزام کیسے۔یعنی لا تسل کا لفظ بتاتا ہے کہ آپ کو یہ طاقت نہیں دی گئی تھی کہ زبر دستی کسی کے دل کی حالت کو بدلیں۔جب طاقت ہی نہیں تھی تو الزام بھی نہیں۔پوچھ کچھ بھی نہیں ، باز پرس بھی کوئی نہیں۔اس سلسلہ میں میں نے چند ایک نمونے مشہور مفسرین کے بھی لئے ہیں کیونکہ جب ہم بات کرتے ہیں تو ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ہمیں کہتا ہے کہ تم خود ساختہ تفسیر کر رہے ہو۔پہلوں نے بھی اس کے متعلق کچھ کہا ؟ اس لئے میں کچھ نمونے پہلوں کے بھی اس سلسلہ میں لیتا ہوں اور ان کو بیان کر دیتا ہوں۔ایک مشہور مفسر امام رازی جن کی تفسیر تفسیر کبیر" کے نام سے مشہور ہے إِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَق کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔دو إِعْلَمُ أَنَّ الْقَوْمَ لَمَّا أَصَرُوا عَلَى الْعِبَادِ وَ التَّجَاجِ الْبَاطِلِ وَاقْتَرَحُوا الْمُعْجِزَاتِ عَلى سَبِيلِ التَّعَتُتِ بَيْنَ اللهُ تَعَالَى لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لا مَزيلٌ عَلى مَا فَعَلَهُ فِي مَصَالِحٍ دِينِهِمْ مِنْ إظْهَارِ الْآدِلَّةِ وَ كَمَا بَيَّنَ ذلِكَ بَيْنَ أَنَّهُ لَا مَزِيدٌ عَلَى مَا فَعَلَهُ 66 الرَّسُولُ فِى بَابِ الإِبلاغ وَالتَّنْبِيْهِ لِكَى لَا يَكْثُرَ عَنهُ بِسَبَبِ إِحْدَارِهِمْ عَلَى كُفْرِهِمْ “ پھر لکھتے ہیں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہ اس کے معنی یہ ہیں۔وو ” قَالَ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ يَا مُحَمَّدُ! بِالْحَقِّ لِتَكُونَ مُبَشِّرًا لِمَنِ اتَّبَعَكَ وَ اهْتَدَى بِدِينِكَ