انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 156
ܪܬܙ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث لگے ہوئے ہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ہمیں ایسے واقعات نظر آتے ہیں کہ خطرناک نفاق کا مظاہرہ کرنے والے عبد اللہ بن ابی ابن سلول جیسے لوگ موجود تھے )۔پس حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بری قرار دیا گیا اس الزام سے کہ کیوں بعض نے نفاق کی راہوں کو اختیار کیا۔وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحَب الْجَحِيمِ یہ منافق جو إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کی رو سے جہنم کے بدترین حصوں میں پھینکے جانے والے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی وجہ سے کوئی الزام عائد نہیں ہوتا، نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی وجہ سے کوئی باز پرس ہوگی۔تیسرے وَلَا تُسْلُ عَنْ أَصْحَب الْجَحِيمِ کے تیسری آیت جو میں نے پڑھی ہے اس کی روشنی میں، یہ ہیں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر باز پرس نہیں کرے گا خدا کہ ایمان لانے کے بعد لوگ مرتد کیوں ہو گئے۔یہ ذمہ داری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہے کہ جو ایمان لے آیا اسے زبردستی دائرہ اسلام کے اندر پکڑ کے رکھیں۔سی اس کا کام ہے۔ساری بنا ہی آزادی پر ہے جزا اور سزا۔خدا تعالیٰ کی رضا اور خدا تعالیٰ کے قہر کا جلوہ جو ہے، اس کا انحصار ہر شخص کے اپنے افعال پر ہے حضرت 66 محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ کوئی ذمہ داری ہے نہ آپ سے کوئی پوچھ کچھ اس کے متعلق کی جائے گی۔جماعتوں اور گروہوں کے لحاظ سے یہ تین گروہ ہی ہیں۔کفر کرنے والے، نفاق کی راہوں کو اختیار کرنے والے اور ارتداد اختیار کرنے والے۔اور تینوں وَ لا تُسْلُ عَنْ أَصْحِبِ الْجَحِيمِ “ کے مفہوم کے اندر آتے ہیں کیونکہ تینوں کے متعلق قرآن کریم نے دوزخی اور دوزخ کی آگ میں پڑنے والوں کا لفظ استعمال کیا ہے۔تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا۔پہلے مفسرین اس بحث میں بھی پڑے ہیں کہ اس آیت میں بشیر اور نذیر کا تعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے یا حق کے ساتھ ہے کہ ہم نے ایسے حق کے ساتھ تجھے بھیجا ہے جو حق بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا ہے مگر دوسری جگہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق واضح طور پر بشیر اور نذیر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔بات یہ ہے کہ یہ بحث لفظی ہے اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا ، خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کروایا اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى ، پس محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم