انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 153 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 153

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۵۳ سورة البقرة صفات سے لذت وسرور نہیں پایا۔وہ کہے گا یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے خدا نے فرمایا وَ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔میں تمہارے ساتھ ہوں تمہیں فکر کی کیا بات ہے؟ جاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں۔اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی ایک انگریز (S-P) ایس پی تھا۔غالباً وہ وہاں پولیس لے کے گیا ہوا تھا وہ تو مسجد سے باہر رہا اور آپ تو مسجد کے اندر چلے گئے تھے۔جب واپس آئے تو ہجوم حملہ آور ہوا ایک وہ ایس پی تھا انگریز جس پر دوسروں کی حفاظت کی ذمہ داری تھی اور ایک وہ خدا کا بندہ مہدی معہود جس کو خدا نے کہا تھا کہ تم میری حفاظت میں ہو۔دونوں باہر آئے۔ایک جگہ پر اکٹھے ہوئے۔ایس پی صاحب کے پتھر پڑے اور چوٹ آگئی لیکن خدا کے اس محبوب کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور بڑے آرام سے گزر گئے۔جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو پھر کوئی خوف باقی رہتا ہے اور نہ کوئی حزن رہتا ہے۔پس خدا کی گود میں خود کو بٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے جو بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِن کے مطابق حقیقی معنی میں مسلمان ہو گیا۔اعتقادا اور عملاً اس نے اپنے وجود کو اللہ کے حضور پیش کر دیا اور اسے سونپ دیا اسے کوئی خوف اور حزن نہیں ہوسکتا۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۴۵ تا ۵۴) آیت ۱۲۰ إِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحَب الْجَحِيمِ اس آیت میں حضرت محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخاطب ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے ، مبعوث کیا ہے بشیر اور نذیر بنا کر اور اصحبُ الْجَحِيمِ کے متعلق تجھ سے باز پرس نہیں کی جائے گی۔قرآن کریم نے یہاں یہ نہیں کہا کہ کافروں کے متعلق تجھ سے باز پرس نہیں کی جائے گی بلکہ یہ کہا کہ اصحبُ الْجَحِيمِ کے متعلق تجھ سے باز پرس نہیں ہوگی۔تیری یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ کوئی دوزخ میں جاتا ہے یا نہیں جاتا۔اَصْحَبُ الْجَحِيمِ کے معنی سمجھنے کے لئے جب ہم قرآن کریم ہی کو دیکھتے ہیں اور وہیں سے ہمیں صحیح