انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 152 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 152

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۵۲ سورة البقرة ہوتی ہے باپ وہمی ہوتا ہے کہتے ہیں تمہارے پیٹ میں درد ہو جائے گی حالانکہ اس کے اندر سے جسم کی اپنی فطرت کی آواز یہ ہوتی ہے اس لئے چنا اس کو ملنا چاہیے۔جو اندر سے آواز آ گئی ہے کہ اتنا مجھے کھانے کے لئے ملنا چاہیے تم اس سے کم دیتے ہو۔بعض دفعہ ہم نے خود دیکھا ہے ماں دو سال کے بچے کو چھپڑ مار دیتی ہے اور کہتی ہے دودھ پیتے ہو یا نہیں تم اسے زیادہ دودھ دے دیتی ہو اس کا جسم کہتا ہے میں نے نہیں پینا۔کیوں اسے زیادہ دے رہی ہو لیکن جو رب ہے اس کو پتہ ہے کہ میرے اس پیارے بندے کی اس انسان کی اس فرد کی جس نے کوشش کی میری صفات کا مظہر بننے کی اس کا دائرہ استعداد کتنا ہے۔میں اس کے مطابق اسے دوں گا۔اس واسطے اس جزا اور اس اجر میں کوئی تکلیف کا پہلو نہیں ہے کیونکہ اللہ دینے والا ہے۔دوسرے یہ فرمایا کہ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ تم میرے بن جاؤ پھر دُنیا میں جو تمہیں ستانے کی کوشش کرتا ہے، کرتا رہے تمہاری ہلاکت کی کوشش کرتا ہے، کرتا ر ہے تمہیں ڈر نہیں ہونا چاہیے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کا بن گیا تو پھر اُسے دُنیا سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنے کے لئے تیار نہیں اس کی عطا کردہ خواہشات اور قوتوں کو صحیح استعمال کرنے کے لئے تیار نہیں اس سے تمہیں کیا ڈرنا ہے؟ تم اللہ کی حفاظت میں ہو۔اس لئے انبیاء اور مامورین کی جماعتیں جو ہیں ان کا کردار ایسا ہوتا ہے کہ چودہ سو سال کے بعد آج مورخ حیران ہیں کہ یہ کیسے ہو گیا اور قریباً ستر ، اسی سال کے بعد ہم بھی حیران ہیں کہ یہ کیسے ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے بارہ ساتھیوں کو لے کر دہلی کے شور شرابے کے باوجود اور ان کی بے وفائی اور دھوکہ دہی کے باوجود جو اُنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہم انتظام کریں گے کہ کوئی نقص امن نہ ہو اس وقت علماء ظاہر کے کہنے پر بارہ ساتھیوں کے ساتھ دہلی کی بہت بڑی جامع مسجد میں تشریف لے گئے اور ان کو کہلا بھیجا۔میں تمہارے پاس آرہا ہوں اور اس لئے آ رہا ہوں کہ تم نے کہا تھا کہ تم امن قائم رکھنے کے ذمہ دار ہو۔تم نے دھوکہ دہی کی اب میں نے اپنی حفاظت کا انتظام کر لیا ہے اب میں آرہا ہوں۔اتنے بڑے ہجوم کے اندر آپ بے دھڑک چلے گئے۔اگر کسی کو حالات کا پتہ نہ ہو اور وہاں یورپ میں جا کر آدمی یہ بتائے وہ کہے گا اُنہوں نے کہانی بنالی ہے۔کسی کو سمجھ نہیں آسکتا ایسا دماغ جس نے خدا کی معرفت کو حاصل نہیں کیا اور اس نے خدا تعالیٰ کی