انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 149

۱۴۹ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث جانے کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جتنی طاقتیں دی ہیں خواہش اور ارادے سے استعمال ہونی چاہیں گویا ان کا استعمال اس رنگ میں ہونا چاہیے کہ تسخیر عالمین کا مقصد پورا ہو جائے اور اس رنگ میں تسخیر عالم ہو کہ سارے عالمین زمین و آسمان میں جو کچھ ہے ان کو اس رنگ میں خدمت پر لگایا جائے کہ نیکی دُنیا میں قائم ہو جائے۔انسان کا نیکی پر پختگی سے قائم ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان عملی طور پر اپنی زندگی وقف کر دے یا اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دے۔اس کو سونپ دے اعتقادا اور عملاً ہر دوطریق پر اپنے سارے وجود اور اپنے وجود کی سب خواہشات اور ہر عزم اور ہمت جو ہے اور ہر قوت اور اس کا استعمال خدا کو سونپ دیا جائے۔اس کی خواہش کے مطابق ہماری خواہشات اور اس کے حکم کے مطابق ہماری اپنی قوتوں کا استعمال تسخیر عالمین کی کوشش کے لئے وقف ہو جائے۔بعض نادان کہہ دیتے ہیں کہ مذہب کا مطلب ہے درویش پین۔یہ غلط ہے۔مذہب کا اگر یہ مطلب ہوتا تو اللہ تعالی تسخیر عالمین کی قوتیں انسان کو عطا نہ کرتا۔اس لئے مذہب کا یہ مطلب نہیں کہ درولیش بن جاؤ۔گوشہ نشین بن جاؤ، دُنیا سے قطع تعلق کر لوجنگل میں چلے جاؤ، درخت کے نیچے اپنا ڈیرہ ڈال لو اور صبح شام اللہ ھو اللہ ھو کہتے رہو۔مذہب کا یہ مطلب نہیں۔مذہب کا تو یہ مطلب ہے کہ اصلاح ہو یعنی اعتقاداً اور عملاً اپنے وجود کو خدا تعالیٰ کے حضور سونپ دینا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمین جس کی تسخیر کے لئے جو قو تیں عطا کی گئیں ہیں اس سے ہم قطع تعلق نہیں کر سکتے۔یہ تو خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہے ورنہ وہ ہمیں طاقت ہی نہ دیتا لیکن تسخیر عالمین کے لئے اپنی قوتوں کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ انہیں خدا کے منشاء کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔اس کے حکم کے نیچے ہونا چاہیے ورنہ پھر آدمی بیٹھ جائے پھر وہ اس سے تو ایک قدم آگے بڑھے گا جس نے کہا تھا کہ اس عالمین سے انسان کا کیا تعلق؟ گودہ ایک قدم آگے بڑھا اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہاں آکر وہ ٹھہر گیا۔وہ روسی کمیونسٹ بن گیا اور کہہ دیا میں اپنی قوتوں کو استعمال کر کے اس عالمین کی تسخیر اللہ تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی منشاء کو پورا کرنے کے لئے کروں گا۔پھر انسانی جان کی کوئی قدر نہیں رہے گی۔خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ یہ عالمین اور یہ ساری خلق یعنی زمین و آسمان کے اندر جو کچھ پایا جاتا ہے ان