انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 150
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۵۰ سورة البقرة سے خدمت لو۔گویا انسان کی خدمت کرنے کے لئے کائنات معرض وجود میں آئی لیکن ایسے آدمی پیدا ہو گئے جو کہتے ہیں ہم ان سے خدمت لیں گے۔انسان کو دکھ پہنچانے کے لئے انسان کی ایذاء دہی کے لئے انسان کو قتل کرنے کے لئے انسان کا گلا گھونٹنے کے لئے ، انسان کی نورانیت کو اندھیروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کے لئے۔یہ تو اسلام نہیں سکھاتا۔اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو مسلمان اس لئے بنایا ہے اور اس لئے ہدایت نازل کی ہے کہ وہ اس ارادہ کے ماتحت رہتے ہوئے اپنی تمام قوتوں کو تسخیر عالمین کے لئے استعمال کرے اور اس استعمال کی جو غرض ہے اس غرض کو بھی سامنے رکھے اور وہ ہے حقوق العباد کی ادائیگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار فرمایا ہے کہ اسلام کا خلاصہ حقوق اللہ کی ادائیگی اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔جہاں تک حقوق العباد کا تعلق ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ نے ہی قائم کئے ہیں۔انسان کو اتنی سمجھ بوجھ نہیں کہ وہ حقوق العباد قائم کر سکے لیکن اسلام نے انہیں کھول کر بیان کر دیا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق العباد کو قائم کرنا ضروری ہے۔اس طرح اعتقاداً اور عملاً اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر دینا اُسے سونپ دینا اپنی ساری خواہشات اور ارادے اپنی انتہائی ہمت اور اپنے عزم کو اس کی منشاء کے مطابق کر دینا حقیقی اسلام ہے یعنی انسان کہے کہ اے میرے خدا میں وہی خواہش کروں گا جو تیری خواہش ہوگی میں وہی کام کروں گا جو تیری منشاء ہوگی۔اعتقاد کے بعد عمل شروع ہوتا ہے۔اگر اعتقاد صیح ہے توعمل صحیح ہوگا اور اعتقاد غلط ہے تو عمل بھی غلط ہوگا۔گو یا عملاً بھی خود کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر دینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی قوتیں عطا کی ہیں ان کو استعمال کرنا چاہیے جو شخص استعمال نہیں کرتا وہ بھی خدا سے دور چلا جاتا ہے کیونکہ خدا اسے انعام دینا چاہتا ہے مگر وہ کہتا ہے میں نہیں لیتا۔یہ تو شوخی کرنے ، استکبار کرنے اور اباء کرنے کے مترادف ہے۔خدا تعالیٰ نے ہر انسان کو اس بات کا مکلف ٹھہرایا ہے کہ اس نے جو طاقت اسے دی ہے وہ اس کا استعمال کرے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔جنگلوں میں جا کر اس کا نام جپنا یہ تو انسان کے سپرد نہیں کیا گیا۔اس کو خدا تعالیٰ نے طاقت دی یہاں تک کہ اس نے کہا کہ انسان چاند پر کمند ڈال سکتا ہے اور ڈال رہا ہے اور چاند تک پہنچنے میں کامیاب ہو چکا ہے لیکن اس کوشش کے نتیجہ میں سیٹلائٹ تو بنا لیا مگر عجیب مضحکہ خیز باتیں کرنے لگ گئے کہتے