انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 148 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 148

۱۴۸ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث کے دل میں کوئی امنگ نہ ہوتی تو ساری قوتیں بیکار تھیں۔اس لئے ایک طرف تسخیر عالمین کے لئے اس کو قو تیں عطا کی گئیں دوسری طرف اس کے دل میں خواہشات اور ہمت اور ارادہ پیدا کیا گیا۔کس کام کے لئے تھا یہ عزم اور خواہش اور ارادہ ؟ اس کام کے لئے کہ میں اپنی تمام قوتوں کو انتہائی طور پر استعمال کروں گا اور جب اس نے اپنے روحانی مقام کو پہچانا اور روحانی قوتوں کا اُس نے اندازہ لگایا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ میں اپنے وجود میں کوئی ایسا ارادہ نہیں رکھوں گا جو اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے تضاد رکھنے والا ہو اور اس کے مخالف ہو۔جو خدا کا ارادہ ہو گا وہی میرا ارادہ ہوگا۔جو خدا تعالیٰ کی خواہش ہو گی وہی میری خواہش ہوگی۔تاہم خدا تعالیٰ کے متعلق ہمارے نو جوان سمجھ لیں کہ یہ الفاظ اُس پر پوری طرح چسپاں نہیں ہوتے کیونکہ وہ ہر پہلو ہر لحاظ سے ایک منفرد واحد اور یگانہ ذات ہے لیکن ہم خودان کو سمجھتے اور دوسرے کو سمجھانے کے لئے اپنے وہ محاورے اور الفاظ استعمال کرتے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔دوسرے معنی میں بھی اللہ تعالیٰ کا عزم اور اس کی خواہش اور اس کا ارادہ ہے مگر جہاں تک انسان کا تعلق ہے اس کے ماتحت اس کے سائے میں اس کے عکس کے طور پر اس کی تشریح کے طور پر انسان کا ارادہ اور اس کی خواہش ہونی چاہیے۔خدا نے کہا میں نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری صفات کا مظہر بنے۔اس لئے انسان کو یہ چاہیے کہ بنیادی طور پر اُس کی ایک ہی خواہش ہو اس کا ایک ہی ارادہ ہو اور وہ یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنوں گا۔اسلام کے یہ معنے بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ کے اندر آتے ہیں۔اعتقادی طور پر اس طرح کہ میری کوئی ایسی خواہش نہ ہوگی میرا کوئی ایسا عزم نہ ہوگا میری کوئی ایسی ہمت نہ ہوگی کوئی ایسا ارادہ نہ ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے خلاف ہو۔جو اس کے عزم اور اس کی ہمت سے متضاد ہو تا ہم انسان اور اللہ تعالیٰ کی ہمت میں بڑا فرق ہے۔اس لئے ظاہر ہے کہ تمہاری اور اس کی ہمت میں بھی بڑا فرق ہے۔ہم بڑی کوشش کرتے ہیں اور بڑی محنت کرتے ہیں اور بڑی تکلیف اُٹھاتے ہیں اور بڑا مجاہدہ کرتے ہیں۔تب اس کے فضل سے نتائج کو پاتے ہیں لیکن وہ تو کسی امر کے متعلق گن کہتا ہے اور وہ وجود میں آجاتا ہے۔یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ارادے اور عزم اللہ تعالیٰ کے عزم اور ارادہ کے ماتحت ہونے چاہئیں۔انسان کا عزم اور ارادہ تو بہر حال اتنا نہیں ہوتا جتنا خدا کا ہوتا ہے پھر انسان انسان کے عزم وارادہ میں بھی فرق ہوتا ہے۔اس مضمون میں