انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 144
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۴۴ سورة البقرة حاصل ہو جائے اُسے کسی غیر کی احتیاج کہاں باقی رہتی ہے مگر جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نہ ہو، وہ ساری دنیا پر غرور کر کے بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔( خطبات ناصر جلد سوم صفحہ ۷ ۴۵ تا ۴۵۹) قرآن کریم میں یہ بیان ہے کہ مومن، مومن میں بڑا فرق ہوتا ہے۔جو اسلام لاتے ہیں ان کی ابتدا تو اس نچلے مقام سے شروع ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ لیا کرو۔وَ لَمَّا يَدُ خُلِ الْإِيْمَانُ في قُلُوبِكُمُ (الحجرات : ۱۵) ابھی تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں لیکن وہ مبتدی جن کی ابتدا یہاں سے شروع ہوتی ہے وہ درجہ بدرجہ روحانی میدانوں میں ترقی کرتے ہوئے آخر میں ایک ایسے مقام تک پہنچتے ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ( الانفال : ۵ ) کہ وہ سچے اور پورے اور حقیقی مومن ہیں۔جو آیت میں نے ابھی تلاوت کی اس میں اس آخری رفعت کا ذکر ہے اور ان لوگوں کا ذکر اشارہ ہے کہ جن کا خاتمہ بالخیر اس مقام پر ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔أوليكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا یہ جو گروہ ہے اس کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے بَلَى مَنْ أَسْلَم والی آیت میں بیان کی ہے۔وہ آئیڈیل (ldeal) ہے۔کوئی شخص اس آیت کوشن کے اور اس کی تفسیر ( جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان کی ہے جسے پڑھ کر سناؤں گا آپ کو اسے ) سُن کے اس شبہ میں نہ رہے۔ایک: کہ سارے کے سارے مومن اس مقام تک پہنچے ہوئے ہیں۔نہیں، سارے نہیں پہنچے ہوئے لیکن جو پہنچے ہوئے ہیں وہ بھی اور جو نہیں پہنچے ہوئے اس مقام کو، وہ بھی مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ زندگی کے ہر آنے والے لمحہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کی اس سے زیادہ برکات نازل ہوں جو گزرنے والے لمحے میں ان پر نازل ہوئیں۔یہ ایک مسلسل حرکت روحانی میدانوں میں جاری ہے۔نہ یہ غلط فہمی ہونی چاہیے کہ جو مُؤْمِنُونَ حَقًّا بن گئے ، مرتے دم تک ان کو کوئی خطرہ نہیں۔دوم :۔اس لئے کہ اس میدان کا کوئی کنارہ نہیں کہ جہاں پہنچ کے انسان کی کنارے پر پہنچنے کی کوشش ختم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ساری کوشش خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لیے ہے اور جو بعد انسان اور خدا میں ہے وہ غیر محدود ہے، نہ ختم ہونے والا ہے لیکن قریب سے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پیار انسان اللہ تعالیٰ کا حاصل کرتا رہتا ہے اپنی زندگی میں۔یہ صحیح ہے کہ یہ آئیڈیل ہے بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ میں جو بیان ہوا۔سارے یہاں تک نہیں پہنچے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہر ایک کو اس