انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 140 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 140

۱۴۰ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث مزدور سے اپنے حق سے کچھ کم لے رہا ہو تو بڑا پر سکون اور اطمینان بخش معاشرہ پیدا ہو جاتا ہے اگر کوئی مزدور اپنے حق سے کچھ لینے پر بھی غصہ میں نہ آئے اور دوسرے کو اس کے حق سے بھی زیادہ دینے کو تیار ہو تو پھر بھی کوئی جھگڑا پیدا نہیں ہوگا یعنی ہر شخص کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ میں نے دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینا ہے۔ایک سرمایہ دار کی یہ کوشش ہوگی کہ مزدور یا کسان کو اس کے حقوق سے زیادہ ہل جائے اور مزدور اور کسان یہ کوشش کریں گے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق دوسروں کا اس پر جو حق بنتا ہے ہم اس سے کچھ زیادہ ہی دے دیں تو کوئی حرج نہیں اگر اس بات میں مقابلہ ہو جائے تو بڑا ہی حسین اور اطمینان بخش معاشرہ قائم ہو جاتا ہے۔اللہ تعالی خالق کل مالک کل کے مرکزی نقطہ سے نکلا ہوا پہلا خط ( یعنی حقوق اللہ ) جو ہے اس کا بھی ایک اثر اور ایک عکس آپس کے تعلقات پر پڑتا ہے اور اس آیت سے جو میں نے تلاوت کی ہے تعین باتوں کا پتہ لگتا ہے جن کی طرف میں مختصراً اشارہ کر دیتا ہوں۔ق اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو حقوق بندہ پر ہیں ان کو ادا کیا جائے وہ ہمیں پیدا کرنے والا ہمیں زندگی بخشنے والا ، ہمیں قائم رکھنے والا، ہماری ربوبیت کرنے والا ہمیں استعدادیں بخشنے والا اور ان استعدادوں کو کمال تک پہنچانے والا اور ساری دنیا کو ہماری خدمت پر لگانے والا ہے ہر آن ہمارا ہر ذرہ اس کے احسانوں کے نیچے دبا ہوا ہے ہمیں اس کے شکر گزار بندے کی حیثیت سے زندگی کے دن گزارنے چاہئیں اور جو شخص ان حقوق کی ادائیگی میں اپنے نفس پر ایک موت وارد کرتا اور اپنی خوشیوں کو اس کی رضا کے لئے چھوڑتا ہے اس کے اس فعل کا اثر انسان کے آپس کے تعلقات پر بھی بہت گہرا پڑتا ہے مثلاً پہلی بات ہمیں ایسے مسلم کے متعلق جو بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کی تعلیم پر کار بند ہے یہ نظر آئے گی کہ وہ ایک خوف زدہ دل سے اپنے مخالف کی بات سنے گا اور تحمل سے اس کو جواب دے گا۔جو شخص خوف زدہ دل کے ساتھ اپنے مخالف کی بات نہیں سنتا اس میں انانیت ابھی باقی ہے اور جو عمل کے ساتھ اسے جواب نہیں دیتا اس کا نفس ابھی موٹا ہے اس نے ابھی اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان نہیں کیا۔دوسرا اثر ان حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجہ میں انسانی معاشرہ پر یہ پڑتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو دیانت داری کے ساتھ اور ایثار اور قربانی اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں اور