انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 136 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 136

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة البقرة ان کو منسوخ کر دے۔سو یہ بھی منسوخ کرنے کا ہی ایک طریق ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ شریعت یا اس کا کوئی حصہ منسوخ کیا جائے (کسی اعلان کے نتیجہ میں ) یا شریعت کا کوئی حصہ زیادہ اچھی شکل میں قرآن کریم میں نازل کر دیا جائے یا یہ اعلان کر دیا جائے کہ ہم نے نام لئے بغیر بعض شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ہر سہ صورتوں میں قرآن کریم مصدق بنتا ہے۔ان سب پہلی شریعتوں کا کیونکہ اعلان تنسیخ اور اعلان نسیان خود تصدیق ہے کہ وہ شریعتیں یا ان شریعتوں کے وہ حصے جو بنیادی صداقتیں تھی جن میں انسان کی طرف سے کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۶۵ تا ۳۶۷) آیت ۱۱۲ ۱۱۳ وَقَالُوا لَنْ يَدخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أو b نَطرى تِلْكَ آمَانِتُهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُم صُدِقِينَ بَلَى - ص ق مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ( ترجمہ ) اور وہ (یعنی یہودی اور مسیحی) کہتے ہیں کہ جنت میں سوائے ان کے جو یہودی ہوں یا مسیحی ہوں ہر گز کوئی داخل نہیں ہوگا۔یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں۔تو انہیں کہہ دے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔بھلا کیوں داخل نہ ہوں گے۔جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیک کام کرنے والا بھی ہو تو اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بدلہ مقرر ہے اور ایسے لوگوں کو نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔سورۃ بقرہ کی ان دو آیات میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بعض لوگ یا بعض فرقے یہ سمجھتے ہیں کہ جنت کے دروازوں کی چابی ان کے پاس ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ ان سے تعلق رکھنے والے ہیں صرف وہی اس تعلق کی بنا پر جنت کے مستحق ہیں اور تمام وہ لوگ جو ان سے تعلق نہیں رکھتے محض ان سے تعلق نہ رکھنے کی بنا پر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کے پاس اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔یہ لوگ محض خوش فہمی میں مبتلا ہیں حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ جو