انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 135 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 135

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۳۵ سورة البقرة دوسرے اس میں یہ بتایا کہ جوجو بنیادی صداقتیں پہلی کتب میں تھیں وہ تمام کی تمام ہم نے قرآن کریم میں جمع کر دی ہیں۔مثلھا میں اسی طرف اشارہ ہے۔مثل اس لئے کہا۔پہلے مجمل طریق پر یہ صداقتیں بیان ہوئی تھیں اور حکمت بتائے بغیر۔لیکن اب وہ کامل اور مکمل شکل میں قرآن کریم میں رکھ دی گئی ہیں بالکل وہی نہیں۔کیونکہ بالکل وہی ہوں تو اس سے قرآن کریم میں نقص لازم آتا ہے لیکن ہیں ویسی ہی مگر زیادہ اچھی شکل میں اور زیادہ تفصیل کے ساتھ۔بِخَيْرٍ مِنْهَا وہ باتیں جن کی پہلی امتیں حامل نہ ہو سکتی تھیں بیان کر دیں اس لئے اس میں وہ ابدی صداقتیں بھی ہیں جو پہلی ہدایتوں کی جگہ آئیں اور ان سے زیادہ خوبصورت شکل میں۔اس میں ضمناً یہ بھی بتا دیا کہ چونکہ پہلی کتب محرف و مبدل ہو گئیں اس لئے مجموعی طور پر ان شریعتوں کو منسوخ کرنا پڑا مجموعی طور پر اس لئے کہ مثلاً موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں اب بھی بعض باتیں اسی شکل میں موجود ہیں جس شکل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔لیکن مجموعی طور پر وہ شریعت انسانی دخل کی وجہ سے اس قدر محترف ہو چکی ہے کہ اس میں وہ برکت، وہ حسن اور اللہ تعالیٰ کا وہ جلوہ نظر نہیں آ رہا ہے جو برکت، جو حسن اور جو جلو ہ الہی اس میں نزول کے وقت تھا اس لئے قرآن کریم نے اسے منسوخ کر دیا لیکن اس کی بنیادی صداقتوں کو لے لیا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور بات بھی بتائی ہے وہ یہ کہ ہم انسان کے ذہن سے شریعت کو مٹا کر ( کہ وہ اسے بالکل بھول جائے ) بھی منسوخ کیا کرتے ہیں۔اگر قرآن کریم ان نامعلوم شریعتوں کا (جو نا معلوم تعداد میں دنیا کی طرف بھیجی گئیں اور جن کا اب نام ونشان نہیں ) نام لیتا تو ہمارے دماغوں میں بڑی الجھن پیدا ہو جاتی۔مثلاً اگر کہا جاتا کہ افریقہ میں فلاں نبی پر فلاں شریعت نازل ہوئی۔حالانکہ نہ دنیا کی تاریخ نے اس نبی کے نام کو محفوظ رکھا ہوتا، نہ اس کی شریعت کے نام کو محفوظ رکھا ہوتا۔اور نہ اس کی کتاب کے کسی حصے کو محفوظ رکھا ہوتا تو کیسی مشکل پیش آتی ؟ تاریخ انسانی ان چیزوں کو بھلا چکی ہے۔فرمایا کہ بعض شریعتوں کو اور بعض کتب سماوی کو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزری تھیں ہم نے ذہن انسانی سے بھلا کر انہیں منسوخ کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ تو علیم ہے وہ تو نام بھی لے سکتا تھا لیکن اگر وہ ایسا کرتا تو ہمارے لئے پریشانی کا باعث بنتا۔اس واسطے اس کے رحم نے تقاضا کیا کہ ان کو بھولا رہنے دے اور اس طرح