انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 134
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۳۴ سورة البقرة ایک نہایت ہی بھیانک، بڑا اور مہلک نتیجہ ہے جو تکبر کی وجہ سے نکلتا ہے۔اس کے علاوہ یہ آیت اس طرف بھی اشارہ کر رہی ہے کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو کافر ہوئے جو منکر ہوئے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے رسول کو نہیں مانا یہ لوگ تو خدا تعالیٰ کی ہدایت اور نور سے محروم تھے ہی لیکن جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو ماننے والے ہیں وہ بھی بعض دفعہ اپنے تکبر کی وجہ سے الہی ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان کا نفس مثلاً پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص ان کے پاس آئے اور ان کو یہ بتائے کہ تمہارے اندر فلاں کمزوری پائی جاتی ہے تم اسے دُور کرو۔وہ کہتے ہیں ہماری بے عزتی ہو گئی یا مثلاً کوئی شخص کسی بڑے مالدار کو یہ کہے کہ دیکھو تم غریبوں پر رحم کیا کرو تو وہ سمجھتا ہے کہ اس شخص نے میری بے عزتی کی ہے اور اس طرح وہ اپنے آپ کو اسلامی حکم سے بالا سمجھنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو ان فیوض سے محروم کر لیتا ہے جن فیوض کو وہ اسلامی تعلیم کے ذریعہ حاصل کر سکتا ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۲۵۳ تا ۲۵۴) آیت ۱۰۷ مَا نَنْسَحْ مِنْ آيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا اَلَم تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ یہ قرآن پہلی کتب کی تصدیق کرتا ہے۔میں جو تصدیق کا ذکر ہے اس کے متعلق یا د رکھنا چاہیے کہ تصدیق کا ایک طریق قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے۔مَا نَنْسَخُ مِنْ أيَةٍ اَوْ تُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کہ جب بھی ہم کسی پیغام کو منسوخ کریں یا بھلادیں اس سے بہتر یا اس جیسا پیغام ہم دنیا میں لے آتے ہیں۔اس آیت میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ پہلی کتب کی بعض باتوں کو بعض ہدایتوں کو قرآن کریم نے منسوخ کر دیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ یہ اعلان فرماتا ہے کہ میں نے پہلے جو کتاب بھیجی تھی اس کی یہ یہ ہدایتیں منسوخ کی جاتی ہیں تو اس اعلان میں اس کتاب کی تصدیق بھی ہو رہی ہوتی ہے یعنی منسوخ کا اعلان خود تصدیق کر رہا ہوتا ہے۔اس بات کی کہ وہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نازل کی گئی تھی جسے اب اللہ تعالیٰ منسوخ کر رہا ہے۔