انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 133
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۳۳ سورة البقرة آیت ۸۸ وَ لَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَب وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ وَ أتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَ اَيَّدُنْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ افَكُلَّمَا ، جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَا تَهْوَى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَبْتُمْ وَ دووور فَرِيقًا تَقْتُلُونَ (۸۸) دوسری چیز جو تکبر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے وہ الہی اور آسمانی تعلیم سے محرومی ہے اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں فرماتا ہے:۔افَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَا تَهُوَى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكَبر تم یعنی جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول اس تعلیم کو لے کر آیا جسے تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تھے تو تم نے تکبر کا مظاہرہ کیا یعنی اپنی بد عادات، گندی روایات ، بد رسوم اور جھوٹے اعتقادات کو اپنے تکبر کی وجہ سے آسمانی تعلیم سے بہتر سمجھا اور آسمانی تعلیم کو اپنے تکبر کی وجہ سے تم نے ٹھکرا دیا۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ جن لوگوں میں تکبر پایا جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو صاحب عظمت، صاحب رفعت اور صاحب طاقت و دولت سمجھتے ہیں اور دوسروں کو اپنے جیسا نہیں سمجھتے ، پھر اس تکبر کے نتیجہ میں ہر وہ رسم ہر وہ عادت ہر وہ خیال اور ہر وہ اعتقاد جو وہ بچپن سے سنتے آئے ہیں قبول کر لیتے ہیں اور جب ان گندی چیزوں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرماتے ہوئے اور صحیح عقائد ان کے سامنے رکھنے کے لئے اپنے رسول کو بھجواتا ہے اور وہ اس کی لائی ہوئی آسمانی ہدایت کو سنتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ کے شکر گزار ہوں اور کہیں کہ ہمارے رب نے ہم پر رحم کیا اور ہمارے لئے ہمارے کسی عمل کے بغیر اور ہمارے کسی استحقاق کے بغیر آسمان سے ہدایت کو نازل کیا تا کہ ہم اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کر سکیں اور خدا تعالیٰ کے قرب کو پاسکیں انہوں نے وَاتَّبَعَ هَواهُ (الاعراف : ۱۷۷) کے ماتحت اپنی ہی پسند ، اپنی ہی خواہش اور اپنی ہی عادتوں کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت، اس کی تعلیم اور آسمانی نور کے مقابلہ میں افضل، اعلیٰ اور ارفع سمجھا اور اس طرح وہ الہی ہدایت اور آسمانی نور کے قبول کرنے سے محروم ہو گئے۔سو یہ بھی