انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 129

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۱۲۹ سورة البقرة کہے گا کہ جو جتنی دیر میں اس مصیبت سے امن میں رہا اس کا بھی میرا کوئی میرے رب پر حق نہیں۔تو جب وہ چیز مجھ سے لے لی گئی اور میرے پر بے اطمینانی کے حالات پیدا ہو گئے تو میں کیا شکوہ کروں خدا سے۔جب وہ اطمینان جو میرے پاس تھا وہ میرا حق نہیں تھا تو جو مجھ سے لیا گیاوہ میرا حق چھینا نہیں گیا لیکن اگر کوئی شخص کہے اتنا بڑا میرے رب نے میرے پر یہ ظلم کر دیا، بے صبری کی بات ہوگئی نا، عاجزی کی بات نہ رہی نا، تکبر کی بات ہو گئی نا فخر کی بات ہو گئی نا، اباء کی بات ہو گئی نا، شیطانی کلمہ منہ سے نکل گیانا، زبان پر قابونہ رکھنا مثالوں پر گیا تو بہت مثالیں دیں تو دیر ہو جائے گی۔اکثر زبان کا وار جو ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے احکام کو توڑنے والا ، وہ اپنی بڑائی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ایک عاجز بندہ اپنی زبان سے دوسرے کو دکھ دے ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ نے تو یہاں تک حکم دیا کہ شرک سب سے بڑا گناہ، مشرک کو میں اس کا گناہ معاف نہیں کروں گا لیکن تمہیں میں تمہاری زبان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ جن بتوں کی وہ پرستش کر رہے ہیں ان کو تم گالی دو وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ (الانعام : ١٠٩) کہ جو شخص خدا کے اس حکم کو توڑ کے بت کو گالی دیتا یا کسی اس کے بندے کے خلاف بدزبانی کرتا ہے وہ جس کے خلاف بدزبانی کرتا ہے اس سے خود کو بڑا سمجھتا ہے نا بھی اس نے اپنا یہ حق سمجھانا کہ اس کو گالیاں دینی شروع کر دیں، بدزبانی اس کے خلاف شروع کر دی۔تو جب تک صحیح اور حقیقی خشوع نہ ہو، عاجزی نہ ہو، انکسار نہ ہو، تواضع نہ ہو صبر کے تقاضے نہیں پورے کئے جاسکتے اور اسی واسطے میں نے شروع میں کہا کہ جو صبر ہے وہ عاجزی اور انکسار کی بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے۔دوسرے ہے صلوٰۃ۔صلوۃ کے معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔دعا سے وو مختلف ہیں۔صلوٰۃ دعا بھی ہے لیکن ہر دعا جو ہے وہ صلوٰۃ نہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں: جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوۃ نہیں۔( یہ بات میں اپنی طرف سے واضح کر دوں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم خدا سے مانگیں لیکن یہاں یہ سوال نہیں کہ وہ حکم ہے یا نہیں، یہاں یہ ہے کہ اس کو دعا نہیں ہم کہتے۔ضروری ہے آپ نے فرمایا جوتے کے تسمے کی بھی ضرورت ہے تو یہ نہ سمجھو کہ کوئی دکان تمہیں تسمہ دے دے گی، مجھ سے مانگو ) لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا