انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 128 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 128

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۲۸ سورة البقرة کے مطابق صبر کا نمونہ دکھا یا مسلمان نے اور کامل تو کل کیا اپنے رب پر دشمن کے تیر ان کی پیٹھ پر نہیں پڑے سینوں پر کھائے۔ایک صبر کے معنی ہیں آفات سماوی آتی ہیں آزمائش کے لئے اس وقت زجر نہ کرنا۔چوتھے معنی ہیں زبان پر قابو رکھنا۔بہت سارے لوگوں کو عادت ہے ویسے ہی بولتے رہتے ہیں اور فتنہ پیدا ہوتا ہے اور وہ خوشحال معاشرہ اور پر امن معاشرہ جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے ان کی زبان اس میں رخنے پیدا کر دیتی ہے۔زبان پر قابو رکھنا اس معنی میں بھی صبر کا لفظ آیا ہے کہ اپنی زبان کو احکام الہی کی رسیوں میں باندھو اور جتنی ، جب اجازت ہو جس حد تک بولنے کی اس سے زیادہ نہ بولو۔نہ کرنے والی بات کر نہ دینا، گالی نہ دینا، افترا نہ کرنا، اتہام نہ لگانا، بدظنی نہ کرنا وغیرہ وغیرہ خدا تعالیٰ نے بہت سے احکام ایسے ہیں جن کے ذریعے سے زبان پر پابندیاں لگائی ہیں اور ان احکام کے مطابق اپنی زبان کا استعمال کرنا اللہ تعالیٰ کی اصطلاح میں ایک یہ بھی صبر ہے۔پانچویں ، مفردات راغب میں ہے، یہ معنی ہیں اس کے کہ عبادت الہی میں جس حد تک ممکن ہو مشغول رہنا اور ہمارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے ہر وقت مشغول رہنے کا سامان پیدا کر دیا۔جس وقت ہم باجماعت نماز پڑھ رہے ہیں وہ بھی عبادت میں مشغول ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک اجتماعی نماز کے وقت بھی میری عبادت میں تم مشغول ہو، کھڑے ہونے کی حالت میں، بیٹھے ہونے کی حالت میں، لیٹے ہونے کی حالت میں تم میرا ذکر کر سکتے ہو اور میری عبادت میں مشغول رہ سکتے ، میری صفات کا ورد کر سکتے ہو، ان کے واسطے سے مجھ سے مانگ سکتے ہو اور دعائیں کر سکتے ہو، اپنی ضرورتیں میرے سامنے پیش کر سکتے ہو ، دعا اور صلوٰۃ میں ہر وقت مشغول رہ سکتے ہو اور جو دعا کرتے ہوئے سو جاتا ہے سوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ہی ثواب دے دیتا ہے۔اور چھٹے یہ کہ اہوائے نفس کے خلاف ہر وقت جہاد میں مشغول رہنا۔یہ جو انسان کا نفس ہے نا یہ بڑا تنگ کرتا ہے انسان کو اور چوکس اور بیداررہ کے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی عظمت اور اس کے جلال کو سامنے رکھے بغیر انسان اپنے نفس سے کامیاب جنگ نہیں کر سکتا۔تو وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ میری مدد حاصل کرو مبر کے ساتھ۔اور جوصبر ہے وہ عاجزی کے بغیر تم نہیں کر سکتے۔مثلاً ہم نے صبر کے معنی کئے تھے مصیبت کے وقت جزع فزع نہ کرنا۔جو عاجز بندہ ہے وہ تو