انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 127 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 127

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۲۷ سورة البقرة مطابق صبر اور صلوٰۃ پر کار بند ہوں۔صبر کے بنیادی معنی تو ہیں استقلال کے ساتھ اور استقامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننا اور ان کے مطابق اپنی زندگی گزارنا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے احکام جو ہیں وہ ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور عربی زبان بہت سے بنیادی ایسے پہلوؤں کے ساتھ صبر کا لفظ استعمال کرتی ہے اس لئے مفردات راغب نے اس کے معنی کرتے ہوئے یہ کہا کہ صبر کے اصل معنی تو یہ ہیں کہ حق النَّفْسِ عَلَى مَا يَقْتَضِيْهِ الْعَقْلُ وَالشَّرْعُ کہ مضبوطی کے ساتھ اپنے نفس کو اس مقام پر قائم رکھنا جس مقام پر قائم رہنے کا عقل اور شریعت مطالبہ کرتی ہے، تقاضا کرتی ہے لیکن اس کی وہ کہتے ہیں مختلف شکلیں نکل آتی ہیں۔مصیبت کے وقت صبر کرنا، جس کا مطلب ہے واویلا نہ کرنا اور کوئی ایسی بات نہ کرنا ، نہ بولنا جس سے یہ معلوم ہو کہ انسان کا تعلق خدا تعالیٰ سے نہیں بلکہ اس کے غیر کی طرف وہ رجوع کر رہا ہے یا خدا تعالیٰ پر اسے کامل بھروسہ نہیں اور اس کے جو احکام ہیں جس شکل میں بھی وہ آتے ہیں ان پر وہ پوری طرح راضی نہیں۔دوسرے اس کے معنی میدان جنگ میں ایک کیفیت ہے اس کے متعلق بولا جاتا ہے۔وہ شجاعت ہے جس معنی میں اسلام نے اسے استعمال کیا ہے۔شجاعت کے معنی ہیں وہ بہادری جس کا تقاضا احکام قرآنی کر رہے ہیں۔مثلاً قرآن کریم نے شجاعت کے معنوں میں یہ تقاضا کیا کہ ایک وقت میں کہا کہ اگر ایک ہو گے تو دو پر بھاری یعنی ایک ہزار تم ہو گے میدانِ جنگ میں تو دو ہزار پر بھاری ہو گے۔پھر کہا تمہیں ہم روحانیت میں ترقی دیں گے تم ایک ہزار ہو گے دس ہزار پہ بھاری ہو گے۔تو یہ شجاعت، یہ ہے شجاعت جس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کہہ سکتے ہیں میدانِ جنگ میں۔بڑا بہادر تھا طارق جس نے اپنی کشتیاں جلائیں اور کامل تو کل خدا تعالیٰ پر کیا۔اس نے سوچا ہوگا شاید کہ میرے مقابلہ میں ایک وقت میں میرے پاس ( کچھ اور فوج مل گئی تھی ان کو ) بارہ ہزار ہیں تو ایک لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ تو کسی میدان میں جمع نہیں ہوں گے اس واسطے مجھے کشتیوں کے سہارے کی ضرورت نہیں، میرے لئے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ کافی ہے۔کس قدر شجاعت کا مظاہرہ کیا خدا تعالیٰ کے احکام پر قائم ہو کر اور دنیا کے لئے ایک حیرت اور ایک عجوبہ بن گیا طارق۔لیکن صرف طارق ہی تو نہیں جس جگہ ہماری ساری تاریخ میں خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی ہدایت