انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 126
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۲۶ سورة البقرة آیت ۲۰ اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ ط يَجْعَلُونَ اَصَابِعَهُمْ فِى أَذَانِهِمْ مِنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ، وَاللهُ مُحِيطٌ بِالْكُفِرِينَ ج والله محيط بالكفرين کہ وہ ان لوگوں کو جو اس کے منکر ہیں اور اس کی ذات اور صفات کا علم نہ رکھنے کی وجہ سے اس سے دوری کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں اپنے غضب کا نشانہ بنانے کیلئے ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے وہ ان پر اپنا غضب نازل کرتا ہے اور اس طرح انہیں پھر واپس لے آتا ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۵۳۰ تا ۵۳۹) آیت ۴۶ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبُرِ وَ الصَّلوةِ ۖ وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ ۴۶ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے بندوں کی جو عاجزی ہے اور تواضع ہے اس میں زیادتی پیدا کرنے کے سامان پیدا کرتا ہے اور ہماری روحانی ترقی کے لئے عجز و انکسار کا پایا جانا ہماری فطرت میں اور اس کی کامل نشو و نما ہونا ضروری ہے۔اس لئے کہ ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ جب تک تم اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کو مضبوطی سے پکڑو گے نہیں، جو کہتا ہے وہ کرو گے نہیں ، جس سے روکتا ہے اس سے باز نہیں آؤ گے اور دعا اور وہ دعا جس کو صلوٰۃ کے لفظ میں یاد کیا گیا ہے اس کے ذریعے سے میرے فضل اور رحمت کو جذب نہیں کرو گے تم میرے قرب کو حاصل نہیں کر سکتے۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ اور صبر اور دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔بہت جگہ اور بھی آیا ہے۔اس آیت کا انتخاب میں نے اس لئے کیا کہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صبر و صلوۃ کے بغیر کوئی استعانت ، مدد نہیں مل سکتی ، اس کی رحمت اور اس کا فضل اور اس کی برکتیں تمہیں حاصل نہیں ہوسکتیں اور صبر اور صلوۃ ، عجز اور انکساری کی بنیادوں کے اوپر اٹھتے ہیں۔وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلا عَلَى الْخَشِعِينَ اور بے شک فروتنی اختیار کرنے والوں کے سوا دوسروں کے لئے یہ امر مشکل ہے یعنی جو فروتنی کرنے والے ہیں صرف ان کے لئے یہ مشکل نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے اور اس کی ہدایت کے