انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 118
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۱۸ سورة البقرة سے بچائے۔انسانی ہمدردی کے لحاظ سے احمدی یا غیر احمدی سب برابر ہیں۔چنانچہ ابھی پچھلے دنوں کا یہ واقعہ ہے کہ ہماری زمینوں کے قریب ہی ایک غیر از جماعت زمیندار کے پانچ جانور ( تین ایک طرف اور دو دوسری طرف آمنے سامنے ) باندھے ہوئے تھے۔اچانک بجلی گری اور ایک طرف کے دونوں جانوروں اور پاس کے درخت کے ایک حصے کو ایک سیکنڈ کے اندر بالکل راکھ بنا کر رکھ دیا اگر انسان اس درخت کو کاٹ کر اس کی راکھ بنانا چاہتا تو شاید اس کو کئی دن لگ جاتے مگر خدا تعالیٰ کے قہر کے اس ایک جلوے نے ایک سیکنڈ کے اندر درخت کو جلا کر راکھ کر دیا۔اللہ تعالیٰ کے یہ جلوے بھی اپنے اندر کئی سبق رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو میرے فضل اور میری رحمت کے بغیر ایک پل بھر کے لئے بھی تمہاری زندگی اس کی صحت اور بقاء قائم نہیں رہ سکتی۔اگر میر افضل شامل حال نہ ہو تو میرے قہر کا ایک معمولی سا جلوہ تمہارے درخت وجود کو جلا کر خاکستر کر دے۔اس لئے اپنی حفاظت کے لئے میری پناہ میں آجاؤ اور میرے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کر لو۔پس مومن بندہ اس حقیقت سے آگاہ اور باخبر ہوتا ہے اور اسی لئے وہ ہمیشہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز رہتا ہے لیکن جب ایک منافق سے یہ کہا جائے کہ اپنے رب سے بے نفس ایثار اور سچے خلوص کا تعلق قائم کرو اور اس کے لئے جس قربانی کا مطالبہ ہو اس کو پورا کرو تو وہ آگے سے کہہ دیتے ہیں کہ اس قسم کا ایمان تو دراصل ایک پاگل پن کی دلیل ہے ایک مجنونانہ فعل اور احمقانہ حرکت ہے۔ہم اتنے عقلمند ہو کر بھلا کیوں اس قسم کا ایمان لائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو هُمُ السُّفَهَاءُ بیوقوف اور احمق تو دراصل تم ہی ہو لیکن بیوقوف اور احمق ہونے کے علاوہ بڑے بد بخت بھی ہو کہ تمہیں اپنی بیوقوفی اور حماقت کا احساس بھی نہیں ہوتا۔وہ احمق جو اپنی حماقت کا احساس رکھتا ہے وہ خود بھی بہت سی تکلیفوں سے محفوظ رہتا ہے اور دوسرے بھی اس کے آزار سے بہت حد تک محفوظ رہتے ہیں کیونکہ اسے یہ احساس ہو جاتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اتنا دماغ نہیں دیا جتنا دوسروں کو دیا گیا ہے لیکن جو شخص اپنی حماقت کا احساس نہیں رکھتا وہ ہر وقت معرض خطرہ میں رہتا ہے اور نقصان سے دو چار رہتا ہے۔اسی واسطے دانشمندوں کا یہ قول ہے کہ ایک بیوقوف دوست کی نسبت ہزار عقلمند دشمن اچھے ہوتے ہیں کیونکہ بسا اوقات ہزار عقلمند دشمن کسی کو وہ نقصان نہیں پہنچا سکتے جو ایک بیوقوف دوست کے ہاتھوں اسے اُٹھانا پڑتا ہے۔