انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 117
تفسیر حضرت خلیفة لمسیح الثالث 112 سورة البقرة سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ پر توکل کریں گے تو ہمیں بھی اس طرح اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان حاصل رہے گی اور مخالف کا کوئی وار کامیاب تو کیا ہوگا وہ اس موقعہ پر خود ہی خائب و خاسر ہو کر لوٹ جائے گا۔پس یہاں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر بار کو خدا کے سپر د کر کے خدا تعالیٰ کے لئے اپنا وقت دینے کیلئے چلا جاتا ہے وہی عقل مند ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ میرا گھر نگا ہے پہرے کا کوئی انتظام نہیں اجازت دیجئے کہ میں جہاد میں شامل ہونے کی بجائے گھر بار کی حفاظت کروں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا شخص دراصل غیر محفوظ ہے وہ چاہے جتنے مرضی انتظام کرے،مضبوط سے مضبوط قلعے بنا لے وہ ملک الموت سے بچ نہیں سکتا وہ ایسے وقت میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔بعض دفعہ دشمن الہی سلسلہ پر حملہ آور ہوتا ہے اور ظاہری لحاظ سے وہ سمجھتا ہے کہ میں غالب آ گیا ہوں چنانچہ وہ جماعت کے امام کو کہلا بھیجتا ہے کہ آپ لوگوں کی جان صرف اس صورت میں بیچ سکتی ہے کہ آپ اس قسم کا ایک بیان جاری کردیں لیکن اسے یہی جواب سنا پڑتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں تم کیا تمہارے جیسے کروڑوں بھی آجائیں ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے ہمیں اپنے قادر و توانا خدا پر بھروسہ ہے اور یقین ہے کہ اس کی حفاظت ہمارے شامل حال ہے۔اس حقیقی حفاظت اور سچی امان کو چھوڑ کر ہمارا جھوٹے وعدوں کی طرف متوجہ ہو جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس الہی سلسلوں کا یہی حال ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہی جذبہ عقلمندی کہلاتا ہے لیکن جو منافق ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہوشیار ہیں دیکھو ہم نے دنیوی حفاظت کیلئے کیسی عقلمندی، ہوشیاری اور چالا کی سے کام لیا کہ بیک وقت دعوئی ایمان کی وجہ سے مسلمانوں کی صفوں میں بھی شامل رہے اور پس پردہ منکرین اسلام سے بھی بنائے رکھی۔وہ اپنی اس حماقت کو عقلمندی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد ہیں ان کے سروں پر اللہ تعالیٰ کے غضب کا کوڑا اسی طرح لہراتا ہے جس طرح بجلی آسمان سے کوندتی ہے اور جس چیز پر گرتی ہے آنکھ جھپکنے میں اس کو بھسم کر کے رکھ دیتی ہے۔کراچی میں پتہ نہیں آپ کو ایسے موقعے ملتے ہیں یا نہیں مگر خدا تعالیٰ کے اس قہر کے کئی نشان دیہاتوں میں اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اپنے قہر