انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 116
١١٦ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث نہیں ان کے رنگ کو اختیار کرتے اور اپنے اندر ایمان اور بے نفسی پیدا کرتے منافق یہ سن کر جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں۔یہ تو احمق ہیں مالی قربانی کا مطالبہ ہوتا ہے تو یہ اپنے بیوی بچوں کو بھوکا مار دیتے ہیں مگر قربانی ضرور دیتے ہیں بھلا یہ بھی کوئی عقلمندی ہے کہ بیوی بچے بھوکے مرتے رہیں اور مالی قربانیوں پر زور ہو پھر جن منافقین کے گھر باہر ہوتے ہیں اور بظاہر ان کے گھروں کے پہرے یا حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا ادھر انہیں وقت کی قربانی دینے سے بھی گریز ہوتا ہے اور بہانہ بنا لیتے ہیں کہ اِن بُيُوتِنَا عَورَةُ (الاحزاب : ۱۴) ہمارے یہاں تو پہرے کا انتظام نہیں اس لئے ہم سے وقت کی قربانی کا مطالبہ نہ کریں اور ہمیں باہر نہ بھیجیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حفاظت کا سارا دارو مدار ان کی موجودگی پر ہے حالانکہ حقیقی محافظ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ہوتے ہیں ہمارے ملک میں بھی مختلف مواقع پر فسادات رونما ہوتے رہے ہیں اور بہت سے احمدیوں نے اللہ تعالیٰ کی شان کو بچشم خود دیکھا ہے۔بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ احمدی کا اکیلا گھر تھا ایک بھرا ہوا مجمع اس پر حملہ آور ہوا مگر واپس چلا گیا اور اس گھر کے مکین احمدیوں کو کسی قسم کی گزند نہ پہنچ سکا اور بعض دفعہ ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ بعض احمدی گھرانوں میں مرد موجود نہیں تھے صرف عورتیں تھیں۔چنانچہ جب بھی اس قسم کے گھر پر مشتعل ہجوم حملہ آور ہوا تو ان کے سامنے اکیلی عورت کھڑی ہو گئی اور خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے اس گھر کو اپنی حفظ و امان میں لے لیا اس حفاظت کا ایک زبر دست نظارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت دکھا یا جب آپ صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ دہلی تشریف لے گئے تھے جہاں ایک بڑے مشتعل ہجوم نے آپ پر حملہ کیا اور یہ نہتے دُہری چاردیواری کے اندر اپنے قادر و توانا خدا کے سہارے بیٹھے تھے۔مادی لحاظ سے یا دنیوی سامانوں کے لحاظ سے اپنی مدافعت کا کوئی سامان ان کے پاس نہ تھا مگر اللہ تعالی جو عظیم قدرتوں کا مالک ہے اس کی حفاظت کا شرف انہیں حاصل تھا چنانچہ ہجوم باہر کا دروازہ توڑ کر اندر صحن میں داخل ہو گیا پھر اندر کے صحن کا دروازہ توڑ ہی رہے تھے کہ کسی نامعلوم وجہ سے اپنے آپ ہی واپس چلے گئے اب دنیا کو تو وہ وجہ نظر نہیں آتی لیکن ہمیں تو وہ وجہ نظر آتی ہے یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا زبر دست رُعب تھا جوان کے دلوں پر ڈالا گیا اور وہ اس وجہ سے ڈر کر واپس چلے گئے چنانچہ یہ ایک عظیم معجزہ اور اللہ تعالیٰ کے پیار کا ایک عجیب مظاہرہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں رونما ہوا۔جس