انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 109 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 109

1+9 سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کی جو قابلیتیں اور قوتیں عطا کی تھیں یہ ان کو کھو بیٹھے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں روحانی اثر کے قبول کرنے کی صلاحیت بخشی تھی جس سے یہ بہت کچھ سیکھ سکتے تھے لیکن ان کے دل پتھر ہو گئے اور اپنی فطرتی حالت میں نہیں رہے جو رقت کی اور رجوع کی اور توبہ کی اور عاجزی کی حالت ہے اور چونکہ ان کے دل پتھر ہونے کی وجہ سے اپنی فطری حالت پر نہیں رہے اس لئے فطرتی دینی اعمال بجالانے کے قابل نہیں رہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے دل کی بہت سی دوسری امراض بتا ئیں اور ان کے علاج بھی بتائے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اندر ایک چیز یہ بھی نظر آتی ہے کہ ہم نے انہیں سننے کیلئے کان دیئے تھے اور سماع سے ہماری مراد یہ تھی کہ جب صوتی لہریں ہوا کے دوش پر ان کے کانوں تک پہنچیں تو پھر آگے ان کے اثرات ذہن پر پڑیں جس سے دل بھی متاثر ہوں کیونکہ قبول ہدایت کا ایک بڑا ذریعہ دل ہی ہے۔انسان جب نیکی کی باتیں غور سے سنتا ہے تو اس کا ذہن تدبر سے کام لیتے ہوئے ان کے اثرات کو دل کی طرف منتقل کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں دل کے اندر ایک ایسا انقلاب اور ایک ایسا تغیر رونما ہوتا ہے کہ انسان قبول ہدایت کے لئے تیار ہو جاتا ہے لیکن انہوں نے اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ میں کانوں پر مہر لگا دی ہے۔کوئی آواز ان کے کانوں میں پڑتی ہی نہیں صوتی لہریں ان کے کانوں سے ٹکراتی اور واپس ہو جاتی ہیں یا ایک کان میں گھستی ہیں اور دوسرے کان سے نکل جاتی ہیں۔پھر ان کو آنکھیں اس لئے دی تھیں کہ وہ اس دنیا میں خدائے کی وقیوم کے قادرانہ تصرفات کا مشاہدہ کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے۔تاریخ عالم پر نگاہ ڈالتے مختلف آسمانی کتابوں کو غور سے پڑھتے اور پھر فکر و تدبر سے کام لیتے تو انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جب سے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ یہ سلوک رہا ہے کہ جب بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہی اس کی طرف سے نازل ہونے والی ہدایت کو قبول کیا اس کی بارگاہ پر جھک گئے اور اس کی راہ میں قربانیوں سے دریغ نہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان پر کس طرح اپنے انعامات نازل کئے اور انہیں کس طرح اپنے فضلوں کا وارث بنا یا۔مگر جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی اس آواز پر کان نہ دھرے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو ٹھکرا دیا اور اس کی قدر نہ کی وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے غضب کے بھنور میں پھنس کر ہلاکت سے دو چار ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان منکرینِ اسلام کی تو یہ حالت ہے کہ گویا ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ فطرتی لحاظ