انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 5 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 5

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الفاتحة نہیں کر سکتے ، انہیں تم گنتی میں نہیں لا سکتے۔وَ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً اور تم پر اپنی نعمتیں ظاہری ہوں یا باطنی پانی کی طرح بہادی ہیں جس طرح سمندر کے پانی کے قطرے نہیں گنے جا سکتے (شائد وہ گنے جائیں لیکن ) اس سے زیادہ بڑھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مہر بانیوں اور اس کے احسانوں کا شمار نہیں ہے۔اس سے تمہیں یہ سبق لینا چاہیے اس سے یہ حقیقت تم پر واضح ہونی چاہیے کہ پیدائش عالم کا مقصد انسان سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس کے باوجو دلوگوں میں سے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارہ میں بات شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا تو خدا ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو اس کو ہمارے ساتھ کیا غرض ؟ اور اس بحث میں ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہوتی ہے وَلا ھڈی۔نہ صحف سابقہ میں سے کسی آسمانی صحیفے کا ان کے پاس کوئی استدلال ہوتا ہے وَلا کتبِ منیر اور نہ قرآن کریم سے کوئی استدلال وہ ایسا کر سکتے ہیں۔تو عقل ، پہلی کتابیں جو ان میں سے سچائیاں قائم رہ گئی ہیں اور دنیا کو روشن کرنے کے لئے جو کتاب منیر قرآن کریم میں نازل ہوئی ہیں ان میں سے کوئی پختہ دلیل نکال کر وہ اپنے موقف کی تائید میں بیان نہیں کر سکتے اور اس بات سے وہ انکار کرتے ہیں کہ یہ دنیا کسی مقصد کے پیش نظر پیدا کی گئی ہے اور آخرت پر جو شخص ایمان نہیں لاتا ( اور دنیا میں ایسے انسانوں کی بڑی کثرت ہے ) اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پیدائش انسانی کی کوئی غرض نہیں۔ساری دنیا کو، کائنات کو ، موجودات کو جو پیدا کیا گیا ہے یہ بے مقصد ہے۔انسان اس دنیا میں آیا ہے اور مرجائے گا اور ختم ہو جائے گا یہ قصہ ہے۔اسی طرح سورہ جاثیہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّبُوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذلِكَ لَآيَةٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ - قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللهِ لِيَجْزِى قَوْماً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ - مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ثُمَّ إِلى رَبَّكُمْ تُرْجَعُونَ (الجاثية : ۱۴ تا ۱۶) کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اُس نے تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور جو فکر کرنے والی اور تدبر کرنے والی اور غور کرنے والی قوم ہے ان کے لئے اس میں ایک بڑا نشان ہے اور وہ معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کائنات کی پیدائش اور انسان کی پیدائش کے پیچھے کوئی مقصد ہے۔اس لئے قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا تو مومنوں سے کہہ دے کہ تم اللہ تعالیٰ کی جزا کی اُمید رکھو