انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 103
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۱۰۳ سورة البقرة ذریعہ میں اپنی قدرت کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں ان پر یہ اعتراض ہوتے رہیں گے ہور ہے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے۔تو یہ ایک بڑی واضح علامت اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے منافق کی، کہ کہتے ہیں کہ کان بھرنے والے کان بھر دیتے ہیں اور یہ فیصلہ کر دیتا ہے بغیر سوچے سمجھے حالانکہ جسے اللہ تعالیٰ اس مقام پر کھڑا کرتا ہے اسے فراست بھی عطا کرتا ہے اور وہ فراست بہر حال عام مومن کی فراست سے زیادہ ہی ہوتی ہے عام مومن کی فراست سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے۔مومن کو اللہ تعالیٰ نے بڑی فراست دی ہوتی ہے تو جو مقام ایک مومن کا بتایا گیا ہے تم وہ مقام بھی خلیفہ وقت کو دینے کے لئے تیار نہیں اور کہتے ہو هُوَ اذن خلیفہ وقت کی کیا حیثیت ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں؟ جب تمہارے بڑوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں چھوڑا تو تم مجھے پر یا مجھ سے پہلوں پر یا بعد میں آنے والوں پر اس طرح پر اعتراض کرو تو کیا حقیقت ہے اس اعتراض کی ! اللہ تعالیٰ نے وہاں یہ نہیں جواب دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُخن نہیں ہیں بلکہ ان کے اس قول کو صحیح تسلیم کیا ہے کہ ہاں اُخن ہیں سنتے ہیں باتیں، مگر اس کے بعد جو فیصلہ کرتے ہیں وہ تمہاری خیر کا ہوتا ہے اور تمہارے لئے شرکا فیصلہ نہیں ہوتا اور سنا ضروری ہے کیونکہ ہر جگہ کی ہر قسم کی بات پہنچنی چاہیے ور نہ صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچا جاسکتا یعنی ہر جگہ سے بات کا کانوں تک پہنچنے سے منافق کا یہ نتیجہ نکالنا کہ اس سے ر پیدا ہوگا یہ احمقانہ بات ہے کیونکہ خدا کا کوئی بندہ بغیر سیح نتیجہ پر پہنچنے کے کوئی کام نہیں کرتا اللہ تعالیٰ خود اس کی رہنمائی کرتا ہے اور صحیح نتیجہ پر وہ پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُذن تو ہے لیکن اُذْنُ خَيْرٍ لکھ تمہاری بھلائی کے لئے کان ہے جو فیصلہ کرے گا باتیں سننے کے بعد وہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۰ تا ۳۷) قرآن عظیم کا یہ دعوی ہے۔ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ یہ ایک کامل کتاب ہے جس میں شک اور شبہ نہیں۔کے بہت سے معانی کئے گئے ہیں۔ایک معنی یہ ہیں کہ اس کتاب میں کوئی ایسی بات نہیں جو حقیقت سے بعید ہو اور شک اور شبہ والی نہیں۔ایک معنی یہ کئے گئے ہیں کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو صاحب فراست، غور کرنے والوں اور نیک نیتی سے اس کا مطالعہ کرنے والوں کے دلوں میں شکوک و شبہات نہیں چھوڑتی اور اس راہ کو جو خدا تعالیٰ