انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 104
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۰۴ سورة البقرة کی رضا کی طرف لے جانے والی ہے روشن کر کے خدا کے بندہ کے سامنے رکھ دیتی ہے۔قرآن کریم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ قرآن ہے۔بار بار پڑھی جانے والی کتاب۔بار بار پڑھی جانے والی کتاب کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہر فرد پر جو اسلام پر ایمان لایا اسے اپنی زندگی کی راہوں کو ہموار کرنے کے لئے قرآن کریم کا بار بار مطالعہ کرنا اور اس کو پڑھنا اور اس پر غور کرنا ضروری ہوگا۔اس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ ہر آنے والی نسل اسے پڑھے گی اس طرح نوع انسانی قیامت تک اس کتاب عظیم سے بے نیاز ہو کر اپنی زندگی کے مسائل کو حل نہیں کر سکے گی بلکہ ہر بعد میں آنے والی نسل مجبور ہوگی کہ اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے قرآن کریم کی طرف رجوع کرے۔یہ ایک کامل کتاب اس معنی میں بھی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام مسائل کو حل کرنے کی طاقت اس میں پائی جاتی ہے لیکن محض یہ اعلان نہ ہمیں کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ غیر مسلموں کو کوئی تسلی دے سکتا ہے۔ان کے سامنے صرف یہ کہہ دینا کہ قرآن عظیم بڑی ہی عظیم کتاب ہے کیونکہ تمام مسائل کو یہ حل کرتی ہے انہیں تسلی نہیں دے سکتا۔اس تسلی کے لئے ضروری ہے کہ ہم مثالیں دے کر اُن کو بتا ئیں کہ یہ عظیم کتاب تمہارے ان مسائل کو حل کرنے کے قابل ہے اور حل کرتی ہے جنہیں تم حل نہیں کر سکے اپنی زندگی میں۔اس کے لئے یعنی مثالیں دینے کے لئے قرآن کریم کی روح کو سمجھنا، سات سو سے او پر جو احکام اس میں پائے جاتے ہیں ان پر غور کرنا اور اپنی زندگی ان راہوں پر ڈھالنا جو بیان کی گئی ہیں اور اپنی گردن ان سات سو سے زائد اس زنجیر کے جو حلقے ہیں ان میں باندھ دینا اور جس طرح ایک بکری مجبوراً قصائی کے سامنے اپنی گردن رکھ دیتی ہے اور کہتی ہے لے چھری چلالے اس طرح برضاور غبت پوری بشاشت اور خوشی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام کو تسلیم کرنا اور خوشی اور بشاشت کے ساتھ اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنا اور علی وجہ البصیرت اس بات کے قابل ہو جانا کہ غیروں کے سامنے مثالیں دے کر آپ یہ کہیں کہ قرآن عظیم واقع ہی عظیم ہے کیونکہ تمہارے یہ دیکھو من ایک دو تین جتنی مثالیں اس وقت آپ دے سکیں دے کر ان کو بتا ئیں کہ تم ان مسائل کو حل نہیں کر سکتے ، نہ کر سکے ہو لیکن قرآن کریم کی یہ تعلیم انہیں حل کر رہی ہے۔(خطبات ناصر جلد نم صفحہ ۱۸،۱۷) ایمان کے مفہوم میں بنیادی طور پر یہ بات پائی جاتی ہے کہ کچھ پہلو غیب میں ہے جس پر ہم ایمان لاتے ہیں اسی واسطے قرآن پاک کے شروع میں ہی يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کہا گیا ہے۔پس غیب