انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 99 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 99

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث الثالثة ۹۹ سورة البقرة کہ برائیوں سے روکا گیا ہو۔ہر حکم کی بجا آوری اس رنگ میں کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہمارا وہ فعل مقبول اور محبوب ہو جائے ممکن نہیں جب تک تقویٰ کی بنیاد پر اس کی عمارت نہ ہو، جب تک تقویٰ کی جڑ سے اس کی شاخیں نہ پھوٹیں، جب تک تقویٰ کے نور کے ہالہ میں وہ لپٹا ہوا نہ ہو، جب تک تقوی کی روحانی زینت اسے خوبصورت نہ کر رہی ہو ہمارے رب کی نگاہ میں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر دوسرے احکام کے مقابلہ میں بہت ہی زور دیا ہے اور اس لئے بھی زور دیا ہے کہ اس حکم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگ خود کو بڑا بزرگ سمجھنے یا کہنے لگ جاتے ہیں یا کسی دوسرے کو بڑا بزرگ سمجھنے یا کہنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ اس بنیادی حقیقت کے مد نظر ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ حکم دیا ہے کہ فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُم هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : ۳۳) جب تقویٰ کا تعلق دل سے ہے، جب تقویٰ : کا تعلق نیت سے ہے، جب تقویٰ کا تعلق اس پوشیدہ تعلق سے ہے جو ایک بندے کا خدا سے ہوتا ہے تو پھر بندوں کو تو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خود فیصلہ کریں اور حکم نہیں۔یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقُی انسان کو عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے بنیادی فضل اللہ تعالیٰ سے یہ چاہنا چاہیے کہ اے ہمارے رب! ہمیں تقویٰ دے، اے ہمارے رب! ہمیں تقویٰ اختیار کرنے کی طاقت اور استعداد دے، اے ہمارے رب، ہمارے اعمال کو تقویٰ کے قلعہ میں محفوظ کر لے۔اے ہمارے ربّ! ہمارے اعمال کو تقویٰ کے نور میں لے لے اور منور کر دے اور اے ہمارے رب ! تقویٰ کی روحانی خوبصورتی ہمارے اعمال پر چڑھا وہ تجھے مقبول ہو جا ئیں اور تو ہم سے راضی ہو جائے۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۶۴ تا ۷۲) سورۃ بقرہ میں پہلے قرآن کریم کو ایک عظیم ، ایک کامل ، ایک مکمل کتاب کی شکل میں ہمارے سامنے رکھا اور یہ اعلان کیا کہ یہ عظیم کتاب ہر قسم کے شکوک وشبہات اور نقائص سے مبرا اور پاک ہے اور اس کے بعد اُمت مسلمہ کو بیدار اور چوکس کیا یہ کہہ کر کہ تم کو ہر وقت تین محاذوں پر، تین فرنٹیرز پر ہوشیاری کے ساتھ شیطان کے حملوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس کے لئے تمہیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ایک محاذ جس کی طرف ہمیں متوجہ کیا وہ اندرونی محاذ ہے تربیت کا محاذ تربیت کے محاذ کے دو پہلو ہیں۔ایک تربیت یافتہ کو تربیت کے اعلیٰ مقام پر قائم رکھنے کی کوشش کرنا اور یہ کوشش کرنا کہ وہ مزید