انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 98 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 98

۹۸ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث خوبصورتی نام ہے ( اور خوبصورت سے ہماری مراد ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں خوبصورت ہو ) خوبصورت افعال اور خوبصورت اعمال کا یعنی جب تک ہمارے اقوال اور ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں روحانی خوبصورتی پانے والے نہ ہوں دعوئی خواہ کوئی انسان کتنا ہی کرتا رہے وہ خوبصورت نہیں ہوا کرتے۔قرآن کریم نے جو یہ فرما یا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِد (الاعراف: ۳۲) تو یہاں بھی اسی طرف ہمیں متوجہ کیا گیا ہے۔مسجد تذلل اور عبادت کے مقام کو کہتے ہیں اور زینت سے یہاں مراد دل کی صفائی اور پاکیزگی اور دل کا تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے یہاں حکم دیا ہے کہ جب بھی میرے حضور تذلل سے جھکنا چاہو اور میری اطاعت اور میری عبادت کرنا چاہو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے تم اپنے دلوں کو پاکیزہ کرو اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے مجھے تک پہنچنے کی کوشش کرو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ضمیمہ براہین احمدیہ (حصہ ) پنجم میں فرماتے ہیں۔انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقوی کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے تقویٰ کی باریک راہیں، روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضا ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں باطنی طور پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں، ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور نا جائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ جملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ لِباسُ التَّقْوى قرآن شریف کا لفظ ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقوی سے ہی پیدا ہوتی ہے“۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۱۰،۲۰۹) تو تقویٰ ایک ایسا حکم ہے جس کا براہ راست اور نہایت ہی گہرا اور ضروری تعلق تمام دوسرے احکام سے ہے، خواہ وہ احکام ہمارے اقوال سے تعلق رکھتے ہوں یا اعتقادات سے تعلق رکھتے ہوں یا اعمال سے تعلق رکھتے ہوں ، خواہ وہ احکام مثبت ہوں کہ کرنے کا حکم دیا گیا ہو، خواہ وہ احکام منفی ہوں