انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 97
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۹۷ سورة البقرة وہ بڑا ہی پیارا اور محبوب ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تشریح بھی کی ہے آپ ہی کے الفاظ میں اس مضمون سے متعلق ایک چھوٹا سا اقتباس میں نے لیا ہے جو یہاں بیان کرتا ہوں آئینہ کمالات اسلام میں ہی آپ فرماتے ہیں: اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِرُ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمُ (الانفال :٣٠) وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِه (الحدید: ۲۹) یعنی اے ایمان لانے والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا (ایک فرقان تمہیں عطا کرے گا) وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آجائے گا تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہوگا اور تمہاری آنکھوں میں نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہو گا اور جن راہوں پر تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں، تمہارے قومی کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گئے۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۸،۱۷۷) تو اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمْ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ به یه اسی حقیقت کو بیان کرنے کے لئے فرمایا ہے کہ ہر وہ عمل جو تقویٰ کی جڑ سے نہیں نکلا، جو تقویٰ کے قلعہ میں محفوظ نہیں، جو تقویٰ کے نور کے ہالہ میں روحانی زنیت نہیں رکھتا وہ رڈ کر دیا جاتا ہے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ تقویٰ عطا کرتا ہے اس کی ساری زندگی کو، اس کے سارے افعال کو ، اس کے سارے اقوال کو اس کی ساری حرکات اور سکنات کو وہ نور عطا کرتا ہے جس نور سے ایسا متقی غیروں سے علیحدہ ہوتا اور ایک خصوصیت اپنے اندر رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو ایک اور رنگ میں بھی بیان فرمایا ہے آپ فرماتے ہیں کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زنیت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔دراصل روحانی