قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 126
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) دینگے اور اسوجہ سے ان کا ٹھکانہ آگ ہے اور ظالموں کا ٹھکانہ کیا ہی بُرا ہوتا ہے۔حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دُعا کی تھی ٣٦ وَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَ اجْنُبْنِي وَ بَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ل (سورۃ ابراهيم ، سورۃ نمبر 14 آیت نمبر 34) ترجمہ: اور (یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب ! اس شہر کو امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو اس بات سے بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔خانہ کعبہ خدائے واحد و یگانہ کی توحید کے اعلان کا گھر تھا اسے حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کروایا تھا مگر کسی شیطانی وسوسے سے اہل مکہ نے خانہ کعبہ میں بت رکھنے کا آغاز کیا بالآخر یہ تعداد 360 تک پہنچ گئی ان بتوں کی عبادت کی جاتی اور ان سے مدد و استعانت مانگی جاتی حضرت محمدسال پیہم کو جب اللہ تعالیٰ نے مقام نبوت پر فائز کیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کو مکہ والوں کے سامنے پیش کیا۔قل ھو الله احد تو کہہ دے کہ اللہ ایک ہے لا اله الا الله سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں یہ بت نہ تو تمھاری دعا ئیں سنتے ہیں اور نہ ہی تمھیں نفع 126