قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 120
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) الشَّرْطِ وَمَا كَتَبْنَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِنْ نَصَرَنَا اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا قَالُوا ذلِكَ لَهُمْ، وَرَدُّوا عَلَيْهِمُ الأَمْوَالَ الَّتِي جَبَوْهَا مِنْهُمْ، قَالُوا: رَدَّكُمُ اللهُ عَلَيْنَا وَنَصَرَكُمْ عَلَيْهِمْ۔(صفحة : 153 - كتاب الخراج لأبي يوسف - فصل في الكنائس والبيع والصلبان - المكتبة الشاملة الحديثة) مذکورہ عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ابو عبیدہ نے ہر اُس والی (حاکم) کو جس نے اپنے زیر انتظام علاقے خالی کر دئے تھے یہ حکم بھیجا کہ جن باشندوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ ہو گیا ہے وہ انکو وصول کردہ خراج اور جزیہ کی رقم واپس کر دیں۔ابوعبیدہ نے انکو لکھا: ہم نے تم سے خراج اور جزیہ اس شرط پر وصول کیا تھا کہ ہم (مسلمان ) تمہاری جان ومال کی حفاظت کریں گے لیکن فی الحال تم اسکی استطاعت نہیں رکھتے بایں وجہ تمہاری رقم تمہیں واپس لوٹا رہے ہیں۔جب مسلمانوں نے یہود اور نصاریٰ کو انکے وصول کردہ اموال واپس کر دئے تو انہوں نے مسلمانوں کو کہا : اللہ تمہیں ہماری طرف واپس لائے اور تمہیں دشمنوں پر غلبہ عطا کرے۔اس وضاحت کے بعد مذکورہ آیت پر کسی قسم کا کوئی اعتراض درست نہیں ہوسکتا۔لہذا 120