قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے

by Other Authors

Page 117 of 145

قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 117

قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) لورڈ نہ کرو اور لڑائی کو لمبا نہ کرو۔پس یہ احسان ہے ظلم نہیں۔صاغرون سے صرف اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس کے متعلق معاہدہ کریں۔جزیہ کا مفہوم: جزیہ عربی زبان کا لفظ ہے۔عربی کی مشہور لغت (ڈکشنری ) المنجد میں تحریر ہے کہ زمین کا محصول اور ٹیکس جو زنی سے لیا جاتا ہے۔زمین کا خراج ( بحوالہ المنجد زیر لفظ جزی )۔ڈقی لفظ ذمہ سے مأخوذ ہے جس کے معنی وہ شخص جو اپنی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کے سپردکرتا ہے۔جزیہ کی حکمت یہ ہے کہ یہود ونصاری جنہوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا یا حملہ کرنے کی سازش اور تیاری کر رہے تھے اور مسلمانوں کو اُنکی طرف سے حملے کی اطلاع مل گئی تھی اور مسلمانوں نے اُنکے حملے سے بچنے اور دفاع کرنے کے لئے اُن سے جنگ کی اور اللہ تعالیٰ حملہ کرنے والوں کو شکست دے دے اور وہ شکست خوردہ مسلمانوں سے اس بات پر معاہدہ کر لیں کہ ہم آپکی مملکت میں ایک اچھے شہری بن کر رہنا چاہتے ہیں اور اپنی جان ومال کی حفاظت وامان چاہتے ہیں اور اسکے لئے ہم مذکورہ معاہدہ کے تحت اتنی رقم بطور ٹیکس ( جزیہ ) ادا کیا کر بیجھے۔117