قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 111
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) اعتراض آیت نمبر : (۲)2 ج وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَلْمِرُكَ فِي الصَّدَقَتِ ، فَإِنْ أَعْطُوْا مِنْهَا رَضُوا وَ إِن لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ ( سورة التوبه ، سورۃ نمبر 9 آیت نمبر 58) ترجمہ: اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارہ میں الزام لگاتے ہیں۔اگر ان ( صدقات) میں سے کچھ انہیں دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان میں سے نہ دیا جائے تو وہ فور ناراض ہو جاتے ہیں۔وضاحت: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات میں تین گروہوں کا ذکر کیا ہے۔پہلا گر و وہ ہے جو حضرت محمد سالن پہ تم پر ایمان لے آیا اور خلوص نیت کے ساتھ آپکی اطاعت کی۔دوسرا گر و وہ ہے جنہوں نے آپ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔تیسرا وہ گروہ تھا جو بظاہر تو مسلمان ہو گیا لیکن باطنی طور پر وہ انکاری ہی رہا۔نہ صرف انکاری بلکہ آنحضرت صال تھا یہ ستم اور مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ سازشیں کرتارہا اور نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔آنحضرت مصلانا یہ تم پر اور ازواج مطہرات پر طرح طرح کے الزام اور اعتراض 111