قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 105
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) مدت کے بعد ان پر حملہ کرتے اور مجبوراً مسلمانوں کو اپنے بچاؤ اور دفاع کے لئے ان سے جنگ کرنی پڑتی ان جنگوں میں جب فریق مخالف کو شکست ہو جاتی تو وہ اپنا مال واسباب چھوڑ کر بھاگ جاتے تو ان کا چھوڑا ہوا مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جاتا اور اسے مال غنیمت کہا جاتا تھا۔اس تقسیم کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ بلاوجہ کی جنگ جوان پر تھوپی گئی اور اس کے لئے انہیں تیاری کرنی پڑی اپنے مال اور اپنی جان ان میں جھونکنی پڑی اس کے لیے اپنی تجارت و کارو بار کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔اس خسارے کی کسی حد تک تلافی ہو سکے۔حضرت رسول کریم مایا یتیم کے عہد مبارک میں اسکی تقسیم کا یہ اصول تھا کہ سارے اموال میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کر دیا جا تا تھا۔اس کے بعد بقیہ مال جنگ میں شریک ہونے والوں میں برابر تقسیم کر دیا جاتا یہ بھی مقررتھا کہ سوار کو پیدل کی نسبت دو حصے دئے جاتے اور پانچواں حصہ آنحضرت سلیہ ایام کے لئے مخصوص کر دیا جاتا اس میں سے کچھ تو حضور ساینا یہ ہم اپنے اہل وعیال میں تقسیم کر دیتے اور اکثر حصہ مسلمانوں کی اجتماعی دینی ، قومی اغراض میں صرف ہوتا تھا۔آیت میں جو یہ فرمایا گیا فَعَجَلَ لَكُمْ هذه ( پس یہ تمہیں اس نے فوری عطا کر 105