قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 93
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) کرے مثلاً ایک ایسا انسان جو اپنے والدین سے محبت کرتا اور انکا احترام کرتا ہے۔اسکی غیرت برداشت نہیں کرے گی کہ کوئی دوسرا اسکے والدین کی توہین کرے اور انہیں بُرا بھلا کہے۔اگر تو ہین کرنے والا اپنی اس حرکت سے باز نہیں آئیگا تو ایک غیرت مند انسان نہ تو اس سے دوستی رکھے گا اور نہ ہی اس سے کسی قسم کی قربت رکھے گا۔دین اسلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اسے جو چاہے قبول کرے اور جو چاہے اسکا انکار کر دے اس پر کوئی جبر و اکراہ نہیں اگر کسی کی سمجھ میں دین اسلام کی تعلیمات نہیں آتیں تو اس کا حق ہے کہ وہ انکار کر دے اور ایک شریف الطبع انسان انکار کے بعد خاموشی اختیار کرے گا مگر کوئی دوسرا شخص تکذیب و تکفیر کے ساتھ ساتھ استہزا اور مذاق بھی کرے اور حضرت بانی اسلام صلی یہ تم اور قرآن مجید کے ساتھ گستاخانہ سلوک کرے تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ نصیحت کی کہ تمہاری ایمانی غیرت کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔اور ایک سادہ سی مثال سے اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ شرارتی اور بری عادات رکھنے والے بچوں سے والدین اپنے بچوں کو دوستی نہ رکھنے اور اس سے دور رکھنے کی نصیحت کرتے ہیں تا کہ وہ اس کی صحبت سے بداثر قبول نہ کر لیں۔اس آیت میں تمام 93 93